انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 246

۲۴۶ خاص زور دیا ہے۔(۲) دوسرا علاج کامل توجہ ہے۔یہ گُر کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے۔اسکا مطلب یہ ہے کہ انسان خیالات کو ایک ہی رَو میں چلائے اور اپنے دل سے خدا تعالیٰ کے سوا باقی سب چیزوں کے خیالات مٹا دے۔قرآن کریم میں آتا ہے وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا جو لوگ کسی کام میںکامیاب ہونا چاہتے ہیں اس میں غرق ہو جاتے ہیں۔گویا وہ اپنے خیالات کو اس طرح چلاتے ہیں کہ صرف وہی کام اُن کا مقصد رہ جاتا ہے اور کسی چیز کی انہیںفکر نہیں ہوتی۔جب کسی کام کے متعلق نفس میں پورا پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے تب اس میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مثلاً ایک شخص جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے وہ یہ خیال کرے کہ مجھے جھوٹ چھوڑ دینا چاہئے تو اس سے کامیابی نہ ہوگی جبتک رات دن اسکی توجہ اسی طرف نہ ہوگی کہ جھوٹ نہیں بولنا اور جھوٹ چھوڑ دینا ہے۔ایک بات کا بار بار خیال کرنے سے یہ طاقت پیدا ہوتی ہے مگر اس طاقت کے متعلق خطرہ بھی ہوتا ہے۔کیونکہ یہ پاگل ہو جاتی ہے یعنی ارادہ کے قبضہ سے نکل جاتی ہے اور اِدھر اُدھر ناچنے لگتی ہے۔ہمارے ملک میں کئی لوگ پوچھا کرتے ہیں۔نماز میں دلیلیں آتی ہیں ان کے دُور ہونیکا کوئی علاج بتایئے۔دلیلیں آنیکا یہی مطلب ہے کہ ایسے شخص کی خیال کی طاقت پاگل ہو گئی ہے اسے توجہ تو پیدا ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ اور چیزوں کی طرف۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف لگاتا ہے وہ کہیں اور بھاگ جاتی ہے۔پس جن لوگوں کو نماز میں دلیلیں آتی ہوں ان کے متعلق یہ خیال غلط ہے کہ انہیں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔اصل بات یہ ہے کہ اُن کی توجہ قوت ارادی کے قبضہ میں نہیں ہوتی خود مختار ہو جاتی ہے اور جدھر چاہتی ہے چلی جاتی ہے۔ایسی حالت میں اس کو قوت ارادی کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرنا چاہئے۔نماز میں جو شخص اور خیالات میں پڑ جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وجہ ارادہ کی قوت کے قبضہ سے نکل گئی ہے۔اس صورت میں سب سے پہلا کام اُسے قوتِ ارادی کے ماتحت لانا ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ اُسے کس طرح ماتحت لائیں؟ اس کا اصل جواب تو میں آگے چل کر دونگا لیکن ایک اور نسخہ بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر ایسے لوگ نماز میں اس امر کا خیال کرنا چھوڑ دیں کہ زور سے توجہ قائم کریں تو پھر ان کی یہ حالت نہ ہوگی۔معمولی باتوں کی طرح نماز بھی پڑھیں۔(۳) تیسری چیز قوتِ ارادی کا استعمال ہے۔ارادہ کرے کہ مَیں اس کام کو کرتا ہی جاؤنگا اور