انوارالعلوم (جلد 9) — Page 237
۲۳۷ جائے۔تاکہ وہ ایسے موقعہ پر کام کر سکے۔غرض جس طرح کام لینے کے لئے گھوڑے کو کبھی دُبلا کیا جاتا ہے اور کبھی موٹا بھی یہی حالت نفس کی ہے۔نہ تو اسے بالکل مار دینا چاہئے اور نہ اتنا سرکش بنا دینا چاہئے کہ کوئی بات ہی نہ مانے۔فلسفۂ اخلاق کے متعلق غزالیؒ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق میں یہ فرق بھی ہے کہ آپ نے یہ تعلیم دی ہے کہ ایمان کی بناء اجاء اور اُمید پر ہے۔یہ تو قرآن کریم میں آتا ہے کہ طمع اور خوف کے درمیان ایمان ہوتا ہے۔مگر یہ نہیں آتا کہ اُمید اور نااُمیدی کے درمیان ایمان ہوتا ہے۔ناامیدی کے متعلق تو یہاں تک آیا ہے کہ اِنَّہٗ لَا یَیْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْم الْکٰفِرُوْنَ کہ نا اُمید کافر ہی ہوتا ہے مومن نہیں ہوتا۔تو ایمان کا فلسفہ اُمید پر قائم ہے اور حدیث میں آتا ہے۔جیسا بندہ گمان کریگا ویسا ہی خدا تعالیٰ اس سے سلوک کریگا۔پس ایسی کوئی ترکیب کہ جس سے نااُمیدی پیدا ہو اسلام نہیں کہلا سکتی۔مگر خوف کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ طمع سے کم ہو اور طمع خوف کی نسبت زیادہ ہو بے شک خوف ایمان کا حصّہ ہے مگر طمع سے کم ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ کہ میری صفت رحمت غضب کی صفات سے زیادہ وسیع ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بندہ کے دل میں بھی خوف سے طمع کی حالت زیادہ زور دار ہونی چاہئے۔مومن کا دل امید سے پُر ہوتا ہے۔بیشک اُسے خوف بھی ہوتا ہے مگر کم۔وہ سمجھتا ہے خدا تعالیٰ مجھ سے ایسا معاملہ نہ کریگا کہ مَیں تباہ ہو جائوں۔اگر ہم مومن کے خوف اور امید کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا خوف خدا تعالیٰ پر بد ظنی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے۔لیکن اُس کی امید خدا تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ہوتی ہے۔اب کیا یہ صحیح نہیں کہ ہماری کمزوری خدا تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں حقیر ہے۔پس اگر مومن کا خوف خدا تعالیٰ کی بے نیازی کومد نظر رکھ کر ہو تو اس کی رحمت اس کی بے نیازی پر غالب ہے۔اور اگر اپنی کمزوری کو دیکھ کر ہو تو خدا تعالیٰ کی طاقت ہماری کمزوری پر غالب ہے۔پس بہرحال اُمید کا پہلو ہی غالب رہا کیونکہ اس کا محرک خوف کے محرک سے ہر طرح زبردست ہے۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ امید مطیع کے لئے ہوتی ہے باغی کے لئے نہیں ہوتی۔کوئی انسان یہ نہ کہے کہ جو جی چاہے کرینگے اور پھر امید رکھیں گے کہ خدا کی رحمت کے مستحق ہو جائیں