انوارالعلوم (جلد 9) — Page 200
انوار العلوم جلد9 ۲۰۰ کے لوگ اپنے خیالات کو پاکیزہ بنائیں۔لیکن اگر ہر وقت پاکیزہ نہ رکھ سکیں تو اسلام کے بتائے ہوئے علاج پر عمل کریں تا اولاد ہی ایک حد تک محفوظ رہے۔اسلام ورثہ میں ملنے والے گناہ کا یہ علاج بتاتا ہے کہ جب مرد و عورت ہم صحبت ہوں تو یہ دُعا پڑھیں: اَللّٰھُمَّ جَنَّبْنَا الشَّیْطٰنَ وَجَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا۔اے خدا ہمیں شیطان سے بچا اور جو اولاد ہمیں دے اُسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔یہ کوئی ٹونا نہیں۔جادو نہیں اور ضروری نہیں کہ عربی کے الفاظ ہی بولے جائیں۔بلکہ اپنی زبان میں انسان کہہ سکتا ہے کہ الٰہی گناہ ایک بُری چیز ہے اس سے ہمیں بچا اور بچہ کو بھی بچا۔اُس وقت کا یہ خیال اس کے اور بچہ کے درمیان دیوار ہو جائے گا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے۔یہ دُعا کرنے سے جو بچہ پیدا ہوگا اس میں شیطان کا دخل نہیںہوگا۔کئی لوگ حیران ہوں گے کہ ہم نے تو کئی دفعہ دُعا پڑھی مگر اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جو بتایا گیا ہے۔مگر ان کے شبہ کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو وہ لوگ اس دُعا کو صحیح طور پر نہیں پڑھتے صرف ٹونے کے طور پر پڑھتے ہیں۔دوسرے سب گناہوں کا اِس دُعا سے علاج نہیںہوتا بلکہ صرف ورثہ کے گناہوں کے لئے ہے۔ورثہ کے گناہ کے بعد گناہ کی آمیزش انسان کے خیالات میں اُسکے بچپن کے زمانہ میں ہوتی ہے۔اس کا علاج اسلام نے یہ کیا ہے کہ بچہ کی تربیت کا زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ قرار دیا ہے جبکہ بچہ ابھی پیدا ہی ہوا ہوتا ہے۔میرا خیال ہے اگر ہو سکتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ فرماتے کہ جب بچہ رحم میں ہو اُسی وقت سے اسکی تربیت کا وقت شروع ہوجانا چاہئے۔مگر یہ چونکہ ہو نہیں سکتا تھا اس لئے پیدائش کے وقت سے تربیت قرار دی اور وہ اس طرح کہ فرما دیا کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کام میں اذان کہی جائے۔اذان کے الفاظ ٹونے یا جادو کے طور پر بچہ کے کان میں نہیں ڈالے جاتے۔بلکہ اس وقت بچہ کے کان میں اذان دینے کا حکم دینے سے ماں باپ کو یہ امر سمجھانا مطلوب ہے کہ بچہ کی تربیت کا وقت ابھی سے شروع ہو گیا ہے۔اذان کے علاوہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بچوں کو بچپن ہی سے ادب سکھانے کا حکم دیا ہے۔اور اپنے عزیزوں کو بھی بچپن میں ادب سکھا کر عملی ثبوت دیا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے، امام حسنؓ جب چھوٹے تھے تو ایک دن کھاتے وقت آپؐ نے ان کو فرمایا: کُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ ممَّا یَلِیْکَ۔کہ دائیں ہاتھ سے کھائو اور اپنے آگے سے کھائو۔حضرت امام حسنؓ کی عمر اس وقت