انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 199

۱۹۹ اب ذرا سوچو تو سہی کہ گناہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔کیا گناہ ورثہ سے نہیں پیدا ہوتے؟ وہ قومیں جو کوئی خاص کام کرنے والی ہوتی ہیں اسی قسم کا میلان ان کی اولاد میں پایا جاتا ہے۔ایک ایسی قوم جس میں نسلاً بعد نسلٍ بہادری کی رُوح نہ ہو اور اُسے بہادر بنانے کی کوشش کی جائے وہ لڑائی کے وقت ضرور بُزدلی دکھائے گی۔یا ویسی بہادری نہیں اس سے ظاہر ہوگی جیسی کہ ایک نسلی بہادر قوم سے ظاہر ہوگی۔تو گو اس قسم کی باتوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔مگر پھر بھی ورثہ کا اثر ضرور ہوتا ہے۔اِسی طرح گناہ لالچ، غصّہ، ڈر، محبت، خواہش کی زیادتی وغیرہ سے پیدا ہوتا ہے۔اب غور کرو کیا یہ وہی خصلتیں نہیں جو بچپن میں ہی بچہ سیکھتا ہے۔کیا وہ اس کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر نظر آنیوالی عادتیں ہی نہیں ہیں جو سارے گناہوں کا موجب ہوتی ہیں۔ماں باپ کہتے ہیں کہ جی بچہ ہے۔اس لئے فلاں فلاں فعل کرتا ہے۔مگر کیا بچپن ہی کا زمانہ وہ زمانہ نہیں ہے جب سب سے زیادہ گہری جگہ پکڑنے والے نقش جمتے ہیں۔ایک شخص جو کسی کا مال چوری کرکے لے جاتا ہے اسے اگر بچپن میں اپنے نفس پر قابو کرنا سکھایا جاتا تو وہ بڑا ہو کر چوری کا کیوں مرتکب ہوتا۔ایک شخص جہاد کے لئے جاتا ہے مگر دشمن سے ڈر کر بھاگ آتا ہے لوگ کہتے ہیں کیسا خبیث ہے۔مگر غور کرو کیا اُسے وہی بُزدلی پیدا کرنے والے قصّے نہیں بھگالائے جو ماں اُسے بچپن میں سُنایا کرتی تھی۔اِسی طرح غصّہ ہے۔بچپن میں ماں باپ خیال نہیں رکھتے اس وجہ سے بچہ بڑا ہو کر ہر ایک سے لڑتا پھرتا ہے۔پھر کیا گناہ قوتِ ارادی کی کمی سے پیدا نہیں ہوتا؟ اور کیا یہ کمی کسی سبب کے بغیر ہی پیدا ہو جاتی ہے۔آخر وجہ کیا ہے؟ کہ انسان ساری عمرارادے کرکرکے توڑتا رہتا ہے مگر اس سے کچھ نہیں بنتا۔یہ ارادہ کی کمی ایک ہی دن میں تو نہیں پیدا ہو جاتی۔بلکہ یہ بھی بچپن میں اور صرف بچپن میں پیدا ہوتی ہے۔ورنہ کیا سبب ہے کہ باوجود سچی خواہش کے کہ مَیں فلاں بدی کو چھوڑ دوں یہ اسے چھوڑ نہیں سکتا۔اگر تربیت خراب نہ ہوتی تو انسان کی اصلاح کے لئے صرف اس قدر کہہ دینا کافی تھا کہ فلاں بات بُری ہے اور وہ اسے چھوڑ دیتا۔اور وہ بات اچھی ہے اور وہ اسے اختیار کر لیتا۔اَب مَیں اس نقص سے اولاد کو محفوظ کرنیکا طریق بتاتا ہوں۔پہلا دروازہ جو انسان کے اندر گناہ کا کھلتا ہے وہ ماں باپ کے اُن خیالات کا اثر ہے جو اُس کی پیدائش سے پہلے اُن کے دلوں میں موجزن تھے۔اور اس دروازہ کا بند کرنا پہلے ضروری ہے۔پس چاہئے کہ اپنی اولادوں پر رحم کر