انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 154

۱۵۴ ذات اور اسی کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے، اس کے ایمان پر ثبات کے لئے اِس جگہ جمع ہوئے ہیں۔پھر مَیں اللہ تعالیٰ سے اس بات کی دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری نیتوں کو درست کرے اور ہمارے عملوں کو صالح بنائے۔اِس کے بعد مَیں اس مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جسے مَیں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اِس جلسہ میں آپ لوگوں کے سامنے بیان کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔لیکن پیشتر اس کے کہ مَیں اس مضمون کو شروع کروں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون کے دو حصّے ہیں۔پہلا حصّہ تو چند ایسے امور پر مشتمل ہے جن کی طرف مَیں جماعت کو سالانہ اجتماع کے موقعہ پر توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔اور دوسرا حصّہ جس کے متعلق ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آج ہی شروع کر دوں۔کیونکہ وہ لمبا ہے۔وہ علمی مضمون ہے۔جیسا کہ مَیں پچھلے سالوں میں بیان کیا کرتا ہوں۔اس کی حقیقت آگے چل کر بیان کروں گا۔(اس موقعہ پر منتظمین جلسہ گاہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ لوگ ابھی بہت سے آرہے ہیں۔لیکن جلسہ گاہ میں جگہ نہیں ہے۔لوگوں سے کہا جائے کہ وہ سُکڑ کر بیٹھیں تاکہ جو لوگ باہر ہیں اُن کے لئے بھی جگہ نِکل سکے۔اس پر حضور نے فرمایا):- اَب کے ہم نے بہت وسیع جلسہ گاہ بنائی تھی مگر خدا تعالیٰ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مَیں تمہاری اُمید سے بڑھ کر تمہیں سُننے والے دیتا ہوں۔احباب سُکڑ کر بیٹھیں تا کہ جو دوست باہر ہیں وہ بھی آسکیں۔مگر شور نہ ہو اور دوست تقریر غور سے سُنیں۔مجھے کھانسی ہے اور کھانسی کی وجہ سے آواز بیٹھ گئی ہے۔گو مجھے خدا تعالیٰ سے اُمید ہے کہ وہ مجھے توفیق دیگا کہ مَیں جو کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں وہ دوستوں کو سُنا سکوں۔مگر اسباب کا لحاظ کرنا بھی ضروری ہے۔پس احباب خاموشی سے بیٹھیں اور جو کچھ سُنایا جائے غور سے سُنیں۔سب سے پہلے مَیں اُن چند غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو میری ذات کے متعلق بعض لوگوں میں پیدا ہو گئی ہیں۔ہمارے بعض دوست جنہیں باہر جانے کا اتفاق ہوتا ہے اُنہوں نے بیان کیا ہے۔اور بغیر کسی کا نام لئے بیان کیا ہے (اور مَیں نے بھی ضرورت نہیں سمجھی کہ اُن سے نام پُوچھوں) میری نسبت بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ خالی بیٹھے رہتے ہیں۔کام کیا کرتے ہیں۔ہمیں تو ان کاکوئی کام نظر نہیں آتا؟ ایسے لوگوں کے لئے مَیں اپنی طبیعت کے برخلاف اپنے کام بیان کرتا ہوں۔تاکہ جن دوستوں کو اس بارے میں شک ہو اُن کا شک دُور ہو جائے۔کیونکہ شکوک زہر کی