انوارالعلوم (جلد 9) — Page 135
۱۳۵ ضروری تھا۔اسی طرح انجمن کے قواعد میں یہ تھا کہ ہم خلیفہ وقت کی بات مانیں گے۔گویا خلیفہ کو وہ اختیار دیتے تھے کہ تم ہم سے بات منوا لینا۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے انجمن کو یہ اختیارات دیئے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کے وقت یہ اختیار ملے یا یہ کہ آپ نے یہ اختیار قائم رکھے اور یہ زائد دیئے اسی طرح ہر خلیفہ کے وقت ہونا چاہئے کیونکہ اصل قائم مقام جماعت کا خلیفہ ہے اس لئے صدر انجمن خواہ کتنے اختیارات رکھے اور خواہ بالکل آزاد کر دی جائے تو بھی اس کے اختیارات نیابتی ہوں گے جو اوپر سے آئے ہوں گے۔اور خلیفہ اگر دیکھے کہ انجمن غلطی کرتی ہے تو اس سے اختیارات کچھ بھی سکتا ہے مگر انجمن کی جو پہلی حالت تھی اس میں خلیفہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔بلکہ انجمن والے خلیفہ کے اختیارات چھین سکتے تھے لیکن وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے اب یہ رکھا گیا ہے کہ انجمن کو یہ اختیارات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے دیئےیا آئندہ جو اختيارات خلفاء دیں گے ان کے مطابق کام کرے گی۔گو انجمن کے اختیارات میں اس طرح کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر نقطہ نگاہ بدل گیا ہے پہلے یہ تھا کہ انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اور خلفاء کو اختیار دیتی تھی اور اب یہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود نے پہلے انجمن کو اختیارات دیئے آئنده خلفاء دیں گے۔جس امرنے مجھے اس وقت آپ لوگوں کو جمع کرنے کے لئے مجبور کیا ہے وہ یہ ہے کہ دنیامیں قواعد کام نہیں کیا کرتے خواہ وہ کتنے ہی اعلی کیوں نہ ہوں بلکہ کام کرنے والے انسان ہوتے ہیں۔اگر قاعدے کام کرتے تو قرآن کریم کی موجودگی میں دنیا تباہ نہ ہوتی۔قرآن کریم سے بہتر قاعدے اور کون سے ہو سکتے ہیں۔ہم نے جو تجویز آج کی ہے اس کے متعلق خوش ہیں کہ اچھی ہے لیکن ہو سکتا ہے کل تجربہ بتائے کہ اس میں یہ یہ نقص ہیں۔مگر قرآن کریم نے جو قاعدے بتائے ہیں ان میں کبھی نقص نہیں پیدا ہو سکتا۔کیونکہ وہ قاعدے اس خدا نے بتائے ہیں جو ہر ایک چیز کا خالق اور مالک ہے اور باریک در بار یک راز جانتا ہے۔مگر اس ہستی کے بتائے ہوئے قاعدے موجود ہوتے ہوئے دنیا خراب ہو گئی پھر ہمارے قاعدوں کی کیا حقیقت ہے۔میں نے آپ لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ میں بتاؤں دنیا میں قاعدے کام نہیں کیا کرتے بلکہ انسان کام کرتے ہیں۔اب ہم نے انتظام کی جو صورت تجویز کی ہے اگر کام کرنے والے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش نہ کریں تو ہو سکتا ہے کہ خرچ کم ہونے کی بجائے اور بڑھ جائے۔اگر کام کرنے والے توجہ نہ کریں اور ماتحت صیغوں میں رقابت اور حسد پیدا ہو تو اس کا نتیجہ فتنہ و فساد ہو سکتا