انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 134

۱۳۴ لازمی ہو۔گو یہ بات ہی فضول تھی کہ فیصلہ کے بعد کوئی مشورہ دیا جائے مگر یہ بھی نہ ہو سکتا تھا۔کیونکہ اس کی بناوٹ میں خلافت کا کوئی تعلق ہی نہ تھا۔آئندہ کے لئے اس قسم کے نقصانات کا اپنی طرف سے ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔باقی زمانہ اور وقت خود اصلاح کرتا جائے گا۔اب یہ صورت تجویز کی گئی ہے کہ صدر انجمن مجلس شوری ٰ ہو گی جو بجٹ وغیرہ پر غور کرے گی۔مجلس معتمدین نہ کوئی بجٹ پاس کر سکے گی نہ اس میں کوئی تبدیلی کر سکے گی جب تک خلیفہ کو اطلاع نہ دے اور مجلس شوریٰ اس پر غور نہ کرے۔پس مالیاختیارات مجلس معتمدین سے لے کر صدر انجمن کو دے دیئے گئے ہیں۔آئندہ صدر انجمن بجٹ پاس کیا کرے اور صدر انجمن نام ہے خلیفہ اور اس کے مشیروں کا۔مشیر رائے دیں گے اور خلیفہ بجٹ پاس کرے گا گویا اب بجٹ صدر انجمن پاس کرے گی جس کا صدر خلیفہ ہو گا اور مجلس معتمدین اس بجٹ کی پابندی کرے گی جس میں کمی یا زیادتی کا اسے اختیار نہ ہوگا۔اسی طرح موجودہ انتظام میں قواعد کو اس طرح ڈھالا گیا ہے کہ صدر انجمن کو اختیارات خلیفہ کی طرف سے ملتے ہیں۔پہلے تو مجلس معتمدین اس طرح اختیارات تجویز کرتی کہ جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی کہ کسی طرح مذہب اور یہ اختیارات جمع ہو سکتے ہیں مثلا ًمجلس نے پاس کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے احکام ماننا ضروری ہے۔گویا اس بات کا اس نے فیصلہ کیا کہ یہ ضروری ہے۔حالانکہ مجلس کا وجودہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے حکم سے ظہور میں آیا تھا۔اس طریق کی بجائے ہونا یہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مجلس کو یہ اختیارات دیئے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کہے میں چار رکعت فلاں وقت پڑھوں گا۔دو رکعت فلاں وقت، تین رکعت فلاں وقت، حالانکہ بات یہ ہے کہ خدا تعالی کہتا ہے نماز پڑھو۔اس لئے ہم پڑھتے ہیں۔تو پہلے صدر انجمن اپنا یہ منصب سمجھتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو اختیارات دے۔اور اختیارات ماتحت کو ہی افسر کی طرف سے نہیں دیئے جاتے بلکہ ماتحت بھی افسر کو اختیار دیتے ہیں جیسے سفر میں اپنے میں سے کسی ایک شخص کو امیر بنا کر اسے اختیارات دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح انجمن کے قواعد میں یہ بات شامل تھی کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بات مانیں گے۔گویا انجمن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو اختیار دیتی تھی کہ آپ ہم سے اپنی بات منوالینا۔حالانکہ انجمن کا وجود پیداہی آپ کے حکم سے ہوا تھا۔اور اس وجہ سے اس کی بنیاد یہ ہوئی چاہئے تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہمیں بے اختیارات دیئے ہیں۔پس انجمن کا پہلا طریق مذہب اور حقیقت کے خلاف تھا جس کا بدلنا