انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 55

۵۵ جماعت احمدیہ کے عقائد دیکھنی چاہتے ہیں جن کی نسبت خود خدا فرماتا ہے کہ میں ایسا نہیں کرتا۔وہ لوگ عالم کہلاتے ہوئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ چونکہ خدا قادر ہے اس لئے وہ جھوٹ بول سکتا ہے (نعوذ بالله) حالانکہ وہ نہیں سمجھئے کہ جھوٹ بولنا تو کمزوری کی علامت ہے۔یہ ان کے نزدیک قدرت کی عجیب دلیل ہے کہ چونکہ وہ کمزور ہے اس لئے وہ قادر نہیں۔اسلام کی ترقی اسی طرح ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ یہ لوگ اپنی نادانی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کو بھلا دیا ہے اور اس لئے ان کو ترقی کرنے کے لئے ایسی کوشش کی ضرورت ہے جس میں شریعت اور اس کی ہدایت کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔لیکن ہم لوگ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی پہلے اسلام کو قائم کیا اور اب بھی وہی قائم کرے گا اور ہم اس کے وعدوں کی وجہ سے مایوس نہیں۔بعث بعد الموت ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ہم بعث ما بعد الموت کے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس زندگی میں انسان نئی طاقتوں کے ساتھ مبعوث کیا جاتا ہے ، وہ اسی روح میں سے اور اسی انسان کے بعض ذ رات میں سے نشو و نما پاکر اس حالت کو حاصل کر تاہے لیکن یہی ذرات اور یہی جسم وہاں نہیں جاتا۔لیکن ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ ہم ان عقیدہ کی وجہ سے حشراجساد کے قائل نہیں۔بعث بعد الموت ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں بعینہ اسی رنگ میں ظاہر ہوں گی جس رنگ میں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہاں کا عالم ہی اور ہے اس لئے جس مادے کی چیزیں یہاں ہیں اس مادے کی چیزیں وہاں نہیں ہوں گی مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ اس عقیدہ کی وجہ سے ہم جنت کے منکر ہو گئے۔دوزخ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ دوز خ ایک آگ ہے لیکن ہم ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس دنیا کی آگ کی قسم سے نہیں بلکہ وہ اس آگ سے کئی باتوں میں ممتاز ہے۔وہ اپنی سختی میں اس سے بہت زیادہ ہے اور وہ انسان کے قلب کو صاف کر سکتی ہے مگر یہ آگ قلب کو صاف نہیں کرتی۔ہمارے مخالف کہتے ہیں ہم اس عقیدہ کی وجہ سے دوزخ کے منکر ہو گئے ہیں۔ابدی عذاب ہمارا یہ یقین ہے کہ آخر اپنی سزاؤں کو بھگت کر خدا تعالی کی نعمتوں کو پانے کی قابليت حال کرکے انسان دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جائیں