انوارالعلوم (جلد 9) — Page 43
انوار العلوم جلد ؟ ٣٣ حکومت کابل کی ظالمانہ کارروائیوں پر صبر و سکون سے کام لو شناخت کر کے اسلامی اخلاق کو سیکھیں اور انسانیت سے گری ہوئی حرکات سے وہ باز آجائیں۔ میرے دل میں بجائے جوش اور غضب کے بار بار اس امر کا خیال آتا تھا کہ ایسی حرکت ان کی حد درجہ کی بیوقوفی ہے۔ امیر اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے گذشتہ تاریخ تو جانتے ہوں گے اور تاریخی حالات اس میں انہوں نے پڑھے ہوں گے اور اگر اس سے بے خبر ہیں تو کم از کم مسلمان کہلانے کی حیثیت سے وہ قرآن تو پڑھتے ہوں گے اور ان حالات کو بھی پڑھتے ہوں گے کہ ظالموں نے اپنے ظلموں سے صادقوں اور راست بازوں کو ذلیل کرنا چاہا اور صداقت اور راستی کے مٹانے کے لئے سر سے پاؤں تک زور مارا مگر آخر کار مٹائے جانے والے وہی ہوئے جو کہ ظالم تھے ۔ انہوں نے اس قرآن میں پڑھا ہو گا کہ ظالموں نے راست بازوں کی جماعتوں کو حقیر اور کمزور سمجھا اور اپنی قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں ان کو ہر طرح کا دکھ دینے کی کوشش کی لیکن خدا نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم کیا طاقت رکھتے ہو ۔ تم سے پہلے تم سے زیادہ طاقتیں رکھنے والی قو میں گذری ہیں جنہوں نے خدا کے راست بازوں کو نابود کرنا چاہا اور جو صداقت وہ لائے اس کو دنیا سے مٹانا چاہا تمہاری طاقت ان کی طاقت کے دسویں حصے کے برابر بھی نہیں مگر باوجود اس کے وہ راست بازوں کا وجو د دنیا سے مٹانہ سکے اور صداقت دنیا میں پھیل کر رہی ۔ پس کوئی حکومت اپنی طاقت کے متعلق بے خوف نہیں ہو سکتی کیونکہ حکومتیں ترقی بھی کرتی ہیں اور گرتی بھی ہیں اور نہ کوئی بادشاہ تغیرات زمانہ سے مطمئن ہو سکتا ہے ۔ گورنمنٹ افغان کا یہ فعل محض ہماری شرافت کی وجہ سے ہے کیونکہ ہم مذہب کی حکومت کی وجہ سے ان کے مقابلہ میں اخلاق کو ان کی طرح وحشیانہ رنگ میں استعمال نہیں کرتے ورنہ جس طرح وہ ظلم کر رہے ہیں کیا ہماری جماعت ظالم کے ظلم سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ بیشک وہ ہم سے زیادہ ہیں اور ہم ان کے مقابلہ میں کمزور ہیں مگر باطنیوں کی بھی کوئی بڑی جماعت نہیں تھی جب اخلاق کو مذہب کی قید سے انہوں نے آزاد کر دیا تو بڑی بڑی حکومتیں اور بادشاہ بھی ان سے کانپتے تھے ۔ جس کو وہ اپنے مخالف پاتے تھے اس کو مخفی قتل کر دیتے تھے۔ مذہب کی جو حکومت اخلاق پر ہوتی ہے نہ کوئی بادشاہ کر سکتا ہے نہ کوئی گورنمنٹ ۔ جب انسان مذہب اور اخلاق سے دور جا پڑتا ہے تو نہ کسی بادشاہ کا اس کو ڈر رہتا ہے اور نہ کسی حکومت کا اس کے دل میں کوئی خوف ہوتا ہے ۔ کم سے کم ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امیر صاحب اس قسم کے مظالم ہماری جماعت : مظالم ہماری جماعت پر کرتا ہے تو اس کو