انوارالعلوم (جلد 9) — Page 44
۴۴ حکومت کابل کی ظالمانہ کارروائیوں پرصبرو سکون سے کام لو یہ خیال نہ آتا ہو گا کہ اگر یہ لوگ بھی مذہب کی اخلاقی قید سے آزادی اختیار کریں تو وہ اس کے مظالم کو روک سکتے ہیں لیکن وہ تو اخلاق سے کام نہیں لیتا لیکن ان کے اخلاق مذہب کی حکومت کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور یہ کوئی خلاف انسانیت کام نہیں کرتے۔میں ان کی اس حرکت پر جو انہوں نے ہمارے دو اور بھائیوں کو سنگسار کر دینے کی ہے اپنے دل میں کوئی غیظ اور غضب نہیں پاتا بلکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں خدا کے قول اور اخلاق کے خلاف ہم سے اور ہماری نسلوں سے ایسی حرکت سرزد نہ ہو۔مجھے اس بات کا اتنا رنج نہیں کہ گورنمنٹ کابل نے ہمارے بھائیوں کو شہید کردیا ہے اور نہ اس کی اتنی فکر ہے جو بات کہ مجھ پر اثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ زمانہ نہیں رہے گا امیر بھی مٹ جائے گا اور اس کے معاون اور مددگار بھی نہیں رہیں گے لیکن جس عقیدہ کی بناء پر انہوں نے یہ ظلم کئے وہ عقیدہ دنیا میں رہے گا اور اس عقید ہوالے بھی دنیامیں رہیں گے کیونکہ غیراحمدیوں کی بھی یہودیوں کی طرح قلیل تعداد دنیا میں قائم رہے گی اس وقت کا خیال کر کے مجھے ان پر اور ان کی نسلوں پر رحم آتا ہے جو امیراور اس کے ساتھیوں کی اس عقیدہ میں وارث ہوں گی کیونکہ یہ تو دنیا سے مٹ جائیں گے لیکن ان کا یہ فعل دنیا میں محفوظ رہے گا اور اس کا جو وبال ان کو بھگتنا پڑے گا وہ سخت خطرناک ہو گا۔حضرت عیسیٰ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والے یہودی تو دنیاے مٹ گئے لیکن ان کا وہ فعل دنیا میں محفوظ ہے آج جہاں کہیں بھی یہودی پائے جاتے ہیں عیسائی جو کچھ ان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں اور جس ذلت کی زندگی یہودی بسر کر رہے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے۔مجھے اس بات کا خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ افغان نے ہمارے آدمیوں کو سنگسار کردیا ہے مجھے ڈر ہے تو اس بات کا ہے کہ ہماری نسلیں جب تاریخ میں ان کے ان مظالم کو پڑھیں گی اس وقت ان کا جوش اور ان کا غضب عیسائیوں کی طرح ان کو کہیں اخلاق سے نہ پھیر دے کیونکہ جس وقت ان کو طاقت اور حکومت حاصل ہوگی ایک طرف وہ ان کی ظالمانہ اور وحشیانہ حرکات کو پڑھیں گے اور دوسری طرف یہ دیکھیں گے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان کے بزرگوں پر ایسے ایسے ظلم اور ستم روا رکھے محض اس گھمنڈ ہیں کہ ہماری طاقت زبردست ہے اور یہ کمزور ہیں ہم حاکم ہیں اور یہ محکوم ہیں اس لئے ہم جو چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں کہیں وہ بھی یہ نہ کہہ دیں کہ چلو آج ہم بھی ان پر حاکم ہیں اور یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہم بھی جو چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں اس لئے ان تجربات اور واقعات کی بناء پر اس تقریر کے ذریعہ میں آئندہ آنے والی