انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 640

۶۴۰ ۴۔ممکن ہے کہ ہندو مسلمانوں سے اپنے بعض مذہبی عقائد کی بناء پر چھوت چھات کرتے ہوں۔مگر مسلمانوں کی اقتصادی حالت پر اس کا بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے جو کہ آزادانہ ہندو دکانداروں سے تمام اشیاء خریدتے ہیں۔حالا نکہ ہندو اکثر اشیاء مسلمانوں سے نہیں خریدتے۔لہٰذا کسی دشمنی کے جذبات سے متاثر ہو کر یا انتقام کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی اقتصادی اصلاح کیلئے ہم ان میں اس تحریک کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان اشیاء کی دکانیں کھولیں جو ہندو ان سے نہیں خریدتے اور مزید برآں ہم اپنے ہم مذہب لوگوں کو یہ بھی تلقین کر رہے ہیں کہ وہ ایسی اشیاء صرف مسلم دکانداروں سے لیں۔چونکہ یہ تحریک مسلم قوم کیلئے ایسی ہی مفید ہے جیسے کہ سودیشی تحریک ہندوستان کے لئے سمجھی جاتی ہے۔اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہماری کوششیں کی انتقام یا دشمنی کی بناء پر نہ سمجھی جائیں۔۵۔کسی قوم کے مذہبی یا سوشل عقائد سے کوئی تعّرض نہ ہو نا چا ہے۔اگر مسلمان گاۓ ذبح کرنا چاہیں تو ان کو پوری آزادی ہونی چاہئے۔اسی طرح عیسائیوں، سکھوں ،ہندوؤں کو سؤر مارنے یا جھٹکے کرنے یا باجہ بجانے میں پوری آزادی ہو۔مگر کوئی فعل بھی ایسی طرز میں نہ ہونا چاہئے جس سے دوسری قوم کے احساسات کے مجروح ہونے کا احتمال ہو۔مثلاً مسلمانوں کو قربانی کی گایوں کا جلوس نہ نکالنا چا ہئے یا کسی اور طرح بھی ان کی خواہ مخواہ نمائش نہ کرنی چاہئے اور یہی طریق سؤریا جھٹکے کے متعلق ہو نا چاہئے۔ہمارے خیال میں مسلمانوں کو باجہ بجائے جانے پر کوئی اعتراض نہ ہو نا چاہئے۔مگر یہ نہایت انسب ہو گا کہ اگر قانون کی رو سے عبارت کے وقت معابد کے سامنے باجہ بجانا ممنوع قرار دیا جا سکے۔1- مذہبی امور میں ہر قوم کو مکمل آزادی ہونی چاہئے اور اس اصل کو ہندو مسلم اتحاد کا ایک ضروری جزو قرار دینا چا ہئے۔بدقسمتی سے اس وقت بہت سی ایسی جگہیں ہیں۔خام کر پنجاب میں جہاں مسلمانوں کی قلیل آبادی کو اذان دینے یا مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں۔اسی طرح بعض دیسی ریاستوں میں تبلیغ کے راستہ میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں۔۷- پرائیویٹ بینکرز کا مروجہ ساہو کارہ نہایت قابل اعتراض ہے اور اگر چہ ایسے ساہو کار ہندو اور مسلم میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے مگر پھر بھی زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہی ہوتا ہے اور اس وجہ سے سینکڑوں ہزاروں خاندان تباہ ہو گئے ہیں۔بدقسمتی سے جب بھی ہم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور مسلمانوں کو گورنمنٹ کو آپر یٹو بنکوں کے ساتھ لین دین کی