انوارالعلوم (جلد 9) — Page 641
۶۴۱ تلقین کی تو ہمیشہ ہم پر ہندووں سے بائیکاٹ کرانے کا الزام لگایا گیا۔لہٰذا اس کے متعلق ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہندووں کو ایک ایسا قانون پاس کرانے میں جس کی روسے پرائیویٹ ساہو کاره باضابطہ ہو سکے ہماری مدد کرنی چاہئے اور ہماری کوششوں کو جو ہم مسلم رقیوں میں مسلمانوں کے فائدہ کیلئے کو آپریٹو بنک کھلوانے کے سلسلہ میں کریں ، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا ذریعہ نہ بنائیں۔۸۔مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔اس لئے وہ سرکاری ملازمتوں میں اپنا جائز حصہ نہیں حاصل کر سکتے اور یہ ظاہر ہے کہ ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کے راستہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں پر تمام ترقیوں کے دروازے عملی طور پر بند ہو گئے ہیں۔اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جہاں تک ہمسایہ اقوام کی طاقت میں ہے۔اس معاملہ میں تناسب اعداد کے لحاظ سے مسلمانوں کو سہولتیں بہم پہنچائی جائیں اور جس طرح کہ ملازمتوں کو ہندوستانیوں کے لئے مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، مختلف قوموں کے تناسب کے لحاظ سے بھی ملازمتوں میں ان کی نیابت منظور کی جائے۔اور ہر صوبہ میں ہر قوم کی نیابت اس کی تعداد کے لحاظ سے ہونی چاہئے۔۹- یہ بات بطور اصل تسلیم کی جائے کہ جس صوبہ میں جو قوم زیادہ تعداد میں ہو وہ کونسل میں قلیل تعداد نہ رکھے۔اور جب کسی قلیل التعداد قوم کو خاصی مراعات دینا ہوں تو یہ مذکورہ بالا اصول کے عین مطابق کیا جائے۔۱۰۔یونیورسٹیوں کے بارہ میں بھی یہی اصل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ہر صوبہ کی ذہنی بالیدگی ایسی قوم کے سپرد کی جائے جس کی تعداد اس صوبہ میں زیادہ ہو۔۱ا۔صوبہ سرحدی میں اصلاحات کا نفاذ اسی طرح اور اسی حد تک ہو نا چاہئے جہاں تک کہ دوسرے صوبوں میں ہے اور اس صوبہ میں ہندوؤں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں ملے ہیں۔جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔۱۲۔سندھ اور بلوچستان ایک علیحدہ صوبے کی صورت میں تبدیل کر دیئے جائیں اور ہندووں کو وہی حقوق دیئے جائیں جو مسلمانوں کو ان صوبوں میں حاصل ہیں جہاں وہ قلیل التعداد ہیں۔۱۳- چونکہ دیسی ریاستوں کو بھی برٹش انڈیا کے ہم پایہ ہو نا چا ہئے۔اس لئے یہ فیصلہ ہو