انوارالعلوم (جلد 9) — Page 633
۶۳۳ بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا۔لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب امام جماعت احمدیہ فوت ہو گئے اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔چونکہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا میں سرا ڈوایئر سے مل نہ سکا اور بات یو نہی رہ گئی۔اس کے بعد ۱۹۲۳ء میں میں سرمیکلیگن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کیا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں۔انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے بعد میں نے پچھلے سال پر ایکسیلنسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا۔اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا ہے۔اور تمام حُکام اعلیٰ، سیاسی لیڈروں، اخباروں، پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سربر آوردہ لوگوں کو جاچکا ہے۔اور کلکتہ کے مشہور اخبار ”بنگالی ‘‘ نے جو ایک متعصّب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔سرمائیکل اڈوائیز اور ٹائمز آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سربر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لیکن افسوس کہ ان حُّکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا جو نظر آرہا ہے۔ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ پر فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔یہ بتاچکنے کے بعد کہ بزرگان دین کی عزت کی حفاظت کے متعلق میں شروع سے ہی کوشش کرتا چلا آیا ہوں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ موجودہ قانون میں کیا کیا نقص ہیں۔(۱) موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم قرار دیتا ہے جو بہ نیت فتنہ کوئی مضمون لکھے براه راست انبیاء کی ہتک کو جُرم نہیں قرار دیتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا کہ راجپال کے مقدمہ کی طرح ہمیشہ ہی عدالتوں میں یہ بحث رہے گی کہ کسی شخص نے فساد ڈلوانے کی نیت سے کتاب لکھی تھی یا نہیں۔یا اس سے فساد کا احتمال ہو سکتا تھا یا نہیں۔اور قوموں میں فساد پڑ سکتا تھا یا نہیں۔اور اگر کوکی جج اس رائے کا ہو جائے کہ فساد ڈلوانے کی نیت نہ تھی۔یا یہ خیال کرلے کہ