انوارالعلوم (جلد 9) — Page 609
۶۰۹ جائے۔سرحدی صوبہ جس میں اسی فیصدی مسلمان بستے ہیں اور ذکاوت اور عقل میں ہندوستان کے کسی صوبہ سے پیچھے نہیں ہیں اور جنہیں محض ہندوؤں کی مخالفت کی وجہ سے حقوق نیابت سے محروم رکھا گیا ہے، اس کو نیابتی حقوق دلوانے کی کوشش کی جائے اور جب تک ان تحریکات میں پوری طرح کامیابی حاصل نہ ہو جائے اس جدوجہد کو ترک نہ کیا جائے۔اے بھائیو! یہ جلسہ اس جدوجہد کا پہلا مظاہرہ ہے نہ کہ اس کا اختتام ، اس قدر عظیم الشان کام ایک دن میں نہیں ہو جاتے‘ وہ مہینوں یا سالوں کی کو شش چاہتے ہیں اور بہترین دماغوں کی خدمات اور بہت بڑی وقتی اور مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔پس آپ لوگ اس جلسہ میں شامل ہو کر یہ خیال نہ کریں کہ آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔اس جلسہ میں تو جو کچھ آپ نے کیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ آپ نے اپنے بھائیوں کے سامنے یہ اقرار کیا ہے کہ ہم اسلام کی ترقی کیلئے ہر ایک قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں۔مگر صرف اقرار کر دینے سے کام نہیں ہو جاتے۔اصل کام اس جلسہ کے بعد شروع ہو گا جب کہ آپ کی آزمائش ہوگی کہ آپ اپنے عہد کو اپنے عمل سے پورا بھی کرتے ہیں یا نہیں۔عہد خواہ کس قدر ہی جوش سے کیا جائے، نفع نہیں دیتا لیکن کام خواہ کتنا بھی تھوڑا ہو مفید ہو تا ہے۔خالی ریزولیوشن پاس کر دینا سچائی کی ہتک کرنا ہے۔سچائی ہمارے منہ کے تحفوں کو قبول نہیں کرتی۔وہ ہماری عملی قربانی چاہتی ہے پس آج کے ریزولیوشن در حقیقت عہد ہیں جو آپ نے کئے ہیں اور اب آپ کا فرض ہے کہ ان ریزولیوشنوں کے مطابق جد و جہد شروع کریں اور اپنے ملنے والوں اور ہمسایوں کو اپنا ہم خیال بنا کر انہیں بھی اس جدوجہد میں شریک کریں یہاں تک کہ ایک مسلمان بھی باقی ایسا نہ رہے جو آپ کے خیالات کے مخالف ہو اور اس جدوجہد میں شریک نہ ہو۔ہاں یہ مد نظر رہے کہ فساد اور دنگا اسلام کو پسند نہیں۔امن کے ساتھ لیکن بہادری کے ساتھ اپنا کام کریں اور دلیل کے زور سے اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو اپنی بات منوائیں نہ کہ زبردستی۔ہاں جو لوگ بِلاوجہ آپ کے کام میں روک ڈالنا چاہیں ان سے بھی نہ ڈریں کہ بُزدل دین اور دنیا دونوں میں ذلیل ہوتا ہے۔اگر آپ اس تجویز کے مطابق عمل کریں گے تو يقيناً الله تعالی کی مدد سے آپ کو گلے کامیاب ہوں گے اور خدا تعالی کی تائید آپ کو حاصل ہوگی۔اس کام کے لئے ہر شہر ،قصبہ اور ہر گاؤں میں ایسی کمیٹیاں بننی چاہئیں جن میں ہر ایک فرقہ کے آدمی شامل کئے جائیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔یاد رکھیں کہ وہ معاملات جو