انوارالعلوم (جلد 9) — Page 608
۶۰۸ کیلئے تیار نہیں۔انا لله و انا الیہ راجعون اے بھائیوا ! ان تاریک حالات میں اللہ تعالیٰ نے ایک روشنی کی صورت پیدا کر دی ہے۔لین دشمنان اسلام کے دلی ارادوں کو شدھی اور سنگھٹن کی شکل میں ظاہر کر دیا ہے۔جن کا سب سے گندہ پہلو وہ ناپاک اور گندہ لٹریچر ہے جو اسلام اور مقدس بانی اسلام کے خلاف لکھا جا رہا ہے۔ہندوؤں کی عداوت کے اس خطرناک اظہار سے سوئے ہوئے مسلمان بھی بیدار ہو رہے ہیں۔اور ان میں بھی صحیح اصول پر کام کرنے کا جوش پیدا ہو رہا ہے چنانچہ پچھلے دو ماہ میں اقتصادی غلامی سے آزادی کے لئے چھوت چھات کی تحریک مسلمانوں میں بڑے زور سے جاری ہے اور اس کا زبردست اثر پیدا ہو رہا ہے۔اس وقت تک ہزاروں دکانیں مسلمانوں کی کھل چکی ہیں اور لاکھوں روپے کا فائدہ مسلمانوں کو حاصل ہو چکا ہے۔ہندو ساہو کار سے سود پر روپیہ لینے کے خلاف ایک عام رَو جاری ہے جو اگر کامیاب ہو گئی تو انشاء الله کلی طور پر مسلمانوں کو ہندوؤں کے قبضے سے آزاد کرا دے گی۔کفایت شعاری کی تحریک مسلمانوں میں پیدا ہو رہی ہے۔تنظیم کی طرف وہ متوجہ ہو رہے ہیں اور اپنے کھوئے ہوۓ حقوق لینے کی بھی انہیں فکر پیدا ہونے لگی ہے۔اس تحریک کو دیکھ کر ہندو کو شش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ تحریک دب جائے اور اس کے لئے انہوں نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ایک تو وہ مسلمانوں کو جوشی والا کر گورنمنٹ سے لڑوانا چاہتے ہیں دوسرے فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر ہم میں آپس میں پھوٹ ڈلوانی چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ گورنمنٹ میں بھی اور پبلک میں بھی انتہائی کوشش کر رہے ہیں۔خفیہ ہی خفیہ حکام اور بعض مسلمانوں کے ذریعہ سے ایسی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں کہ مسلمان ایک طرف تو گورنمنٹ سے اُلجھ جائیں اور دوسری طرف آپس میں لڑنے لگیں۔اگر اس وقت آپ لوگوں نے ان کی چالوں کو نہ سمجھا اور ان کے دھوکے میں آگئے تو پھر سمجھ لیجئے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ مسلمانوں کو اپنا غلام بنا کر رکھیں گے اور اسلام کو ذلیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کی ان کوششوں کو باطل کرنے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ پورے جوش اور مستقل ارادہ کے ساتھ تبلیغ اور اتحاد باہمی کی تحریکات کو جاری رکھا جائے۔چھوت چھات ، بنئے کے سود سے پرہیز کی تلقین کی جائے۔گورنمنٹ سے اپنی تعداد کے مطابق حقوق کا مطالبہ کیا