انوارالعلوم (جلد 9) — Page 603
۶۰۳ ایک تھوڑی سی کو شش، ایک تھوڑی سی قربانی کی ضرورت ہے کہ صدیوں کی پہنی ہوئی زنجیریں کٹ جائیں گی اور اسلام کا سپاہی اپنے مولیٰ کی خدمت کیلئے بھی آزاد ہو جائے گا اور ہندووں کی غلامی کے بند ٹوٹ جائیں گے۔اے بھائیو! ہمت اور استقلال سے اور صبر سے اپنی دینی اور تمدنی اور اقتصادی حالت کی درستی کی قدر کرو اور خدا تعالی کی طرف سچے دل سے جھک جاؤ اور اس کی مرضی پر اپنی مرضی کو قربان کر دو اور اس کے ارادوں کے سامنے اپنے ارادوں کو چھوڑ دو۔اور اس کے کلام کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دو اور اس کی شریعت کو اپنا شعار بناؤ - اور اس کے ہر ایک اشارہ پر عمل کرنے کیلئے تیار رہو اور اپنے نفس کو بالکل مار دو۔تب وہ اپنا وعدو الذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا کے ماتحت آپ کو اس راستے پر چلائے گا جو اس کی مرضی کے مطابق ہے۔اور اپنی نصرت کا ہاتھ آپ کی طرف بڑھاۓ گا اور آپ کے بازو کو قوت بخشے گا اور آپ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا اور ہر ایک میدان میں خواہ علمی ہو خواہ تمدنی ہو خواوہ اقتصادی ہو، آپ کو فتح دے گا۔متواتر قربانی کی ضرورت ہاں ضرورت ہے تو اس بات کی کہ متوار اور لگا تار قربانی کی جائے اور عقل سے کام لیا جائے اور خدا تعالی کی نصرت پر نظر رکھی جائے اور بے فائدہ جوش سے اپنی قوتوں کو ضائع نہ کیا جائے اور خواہ مخواہ دشمن کے تیار کرده گڑ ھوں میں نہ گرا جائے۔وہ لوگ جو مسلمانوں کو بھی اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں وہ گورنمنٹ سے ہمیں لڑوا کر ہماری طاقت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔اور اس وقت جو مسلمانوں کی توجہ مذہبی، اقتصادی، تمدنی آزادی کی طرف ہو رہی ہے، اس کا رخ دوسری طرف پھیرنا چاہتے ہیں۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان اس دھوکے میں نہیں آئیں گے۔گورنمنٹ نے پیچھے جو کچھ بھی کیا ہو، اس وقت وہ مسلمانوں کی جائز مدد کر رہی ہے اور اگر کسی جگہ بعض مجسٹریٹ مسلمانوں کی تکلیف کا موجب ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ گورنمنٹ کی پالیسی نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مجسٹریٹوں کے دل ان ہندوؤں کی باتوں سے متاثر ہیں کہ جو ملک میں امن دیکھنا پسند نہیں کرتے۔پس ہمیں وقتی جوش سے متاثر ہو کر اپنے اصل کام کو نہیں بھولنا چاہئے۔آج سے ہمارا فرض ہو کہ تبلیغ کر میں مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت کو درست کریں اور جس حد تک ممکن اور مذہباً جائز ہو مسلمانوں میں سے اختلاف کے مٹانے کی اور