انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 602

۶۰۲ گے اور مسلمانوں کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔سِول نافرمانی کیلئے تیار ہونیوالوں کو کیا کرنا خلاصہ یہ کہ سِول نافرمانی کا تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار ہوں اور جب کہ پہلے عدم تعاون کا فیصلہ کر لیا جائے ، ورنہ سوائے شور کرنے کے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔پس جو لوگ سِول نافرمانی کیلئے تیار ہوں میں انہیں مشورہ دوں گا گے وہ ذرا زیادہ ہمت دکھائیں اور جو وقت ان کے پاس فارغ ہو، اسے تبلیغ اسلام پر خرچ کریں۔اگر دو چار ہزار آدمی تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہو اور ادنی ٰاقوام کے گھروں پر جا کر شفقت اور اتھہ روی سے ان کو اسلام کی دعوت دے تو اسلام کو کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے۔اگر یہ لوگ ملک میں پھر کر زمینداروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں اور بندو بنئے سے سودی قرض لینے سے منع کریں تو اسلام کو کسی قدر تقویت پہنچ سکتی ہے۔اگر وہ اپنے فارغ وقت کواپنے جاہل بھائیوں کو دین کی باتیں سمجھانے اور قومی ضروریات سے واقف کرانے پر لگائیں تو قومیت کو کس قدر نفع حاصل ہو سکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ فارغ ہیں تو ہزاروں گاؤں جن میں سب سودا ہندو بنئے سے لیا جاتا ہے وہاں جا کر وہ ایک دکان کھول لیں اور اس طرح مسلمانوں کو ہندو دکاندار کے ذلت آمیز سلوک سے محفوظ کریں تو قومی احساس میں کس قدر ترتی ہو سکتی ہے۔کام کرنے کا وقت ہے نہ جیل خانہ جانے کا پس اے دوستو! یہ کام کا وقت ہے، جیل خانہ میں جانے کا وقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس وقت بیداری پیدا کر دی ہے ،اس بیداری سے فائدہ حاصل کرو۔یہ دن روز نصیب نہیں ہوتے، پس ان کی ناقدری نہ کرو۔خدا تعالی کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے دشمن کے ہاتھوں آپ لوگوں کو بیدار کر دیا۔اب جلد سے جلد اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبود ی کے کاموں میں لگ جاؤ۔اِس وقت ہر ایک جو مسلمان کہلاتا ہے، اس کے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔جیل خانہ میں لوگوں کو بھرنے کا موقع نہیں بلکہ ان کو ان میں سے نکالنے کا موقع ہے۔دشمن آپ لوگوں کی کوششوں کو دیکھ کر گھبرا رہا ہے۔وہ محسوس کر رہا ہے کہ اب آپ نے اس کے مخفی حملہ سے بچنے کا صحیح ذریعہ معلوم کر لیا ہے۔پس و ہ تلملا رہا ہے اور اپنے شکار کو ہاتھوں سے جا تا دیکھ کر سٹ پٹا رہا ہے۔ایک تھوڑی سی ہمت،