انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 589

۵۸۹ عزت نہیں بخش سکتیں جب تک کہ آپ کی سب قوم معزز نہیں ہو جاتی۔یہ تواصلی کام ہے۔باقی رہا وقتی کام سو اس کے لئے میرے نزدیک بہترین تجویز یہ ہے کہ اول تو جلد سے جلد ایک وفد ہِز ایکسیلنسی گورنر پنجاب کے پاس جائے اور انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائے کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک کو فورا ً آزاد کیا جائے اور اس وفد میں ہر فرقہ کے لوگ اور تمام پنجاب کے نمائندے شامل ہوں۔میں نے اس غرض سے ہِز ایکسیلنسی کو چٹھی بھی لکھوائی ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس وفد کو ملنے سے انہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔پس ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ہمارے معقول مطالبے کو منظور کرنے میں گورنمنٹ کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔اور اگر بفرض محال اس میں کوئی دقت محسوس ہوئی تو اس کے متعلق اس وقت کے پیدا ہونے پر غور کیا جا سکے گا۔دوسری تدبیر یہ ہے کہ ایک محضر نامہ تمام پنجاب اور دہلی اور سرحدی صوبہ کے لوگوں کی طرف سے گورنمنٹ کے پیش کیا جائے جس میں اس سے پُرزور مطالبہ کیا جائے کہ وہ کنور دلیپ سنگھ صاحب جج ہائی کورٹ پنجاب کے فیصلے کے اثر کو مٹا کر فوراً اس امر کا انتظام کرے کہ آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جو اس مصنّف کے خبث باطن اور ناپاک فطرت کو نہایت ہی گندے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل شکنی کا موجب ہوں۔بلکہ نہ صرف آپ کے لئے بلکہ تمام مذاہب کے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرے۔اسی طرح گورنمنٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ وہ کنور دلیپ سنگھ صاحب کو جن کے فیصلہ متعلقہ کتاب ”رنگیلا رسول ‘‘کی وجہ سے صوبے کی اکثر آبادی کو ان پر اعتماد نہیں رہا اس عہده جلیلہ سے الگ کر کے مسلمانوں کی بے چینی کو دُور کرے۔نیز یہ بھی مطالبہ کیا جائے کہ مسلم آؤٹ لک کے مدیر اور مالک کو قید سے رہا کر دیا جائے کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے در حقیقت ہائی کورٹ کی عزت کو بچانے کی کوشش کی ہے نہ کہ اس کے اعتبار کو مٹانا چاہا ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ان کی قید کا حکم دے کر اپنے ہاتھوں اپنی عزت کو سخت صدمہ پہنچایا ہے اور چونکہ اس وقت ہائی کورٹ میں ہندوستانی ججوں میں سے اکثریت ہندوؤں کی ہے۔اور پنجاب کے مسلمانوں کی اس بات میں سخت ہتک ہے کہ مسلمان بیر سٹروں میں سے ایک بھی جج مقرر نہیں۔بلکہ ایک جج تو سروس سے لیا گیا ہے اور ایک جج یوپی سے بلایا گیا ہے۔حالانکہ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی ۵۵ فیصدی ہے اور اکثر مقدمات مسلمانوں کے ہی ہوتے ہیں۔پس مسلمانوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔اور کم سے کم ایک مسلمان جج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے فوراً مستقل طور پر مقرر کیا جائے اور جو موجودہ مسلمان جج ہیں۔