انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 588

۵۸۸ میرے نزدیک ہر ایک اسلام کا درد رکھنے والے کا اس وقت یہ فرض ہے کہ اس موقع پر بجائے وقت جوش دکھانے کے وہ یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ قرآن کریم کو اپنا ہادی بنائے گا اور اسلام کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے گا۔اور مسلمانوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے گا۔اور مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد کے لئے آمادہ رہے گا۔اور اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں سے لڑائی جھگڑے کو بند کردے۔اور خواہ وہ اس کے کتنے دشمن ہوں وہ انہیں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں پر ترجیح دے گا۔اور تبلیغ اسلام کو اپنا مقدم فرض سمجھے گا۔اور اس کے متعلق مالی اور جسمانی اور اخلاقی امداد پر کمربستہ رہے گا۔اور ہندوؤں سے ان تمام امور میں چُھوت چھات سے کام لے گا جن میں وہ مسلمانوں سے چُھوت چھات کرتے ہیں۔اور حتی الامکان مسلمانوں سے ہی سودا خریدنے کی کوشش کرے گا۔اور مسلمانوں کی ہر قسم کی دکانیں کھلوانے کا ہمیشہ خیال رکھے گا۔اور سود سے پر ہیز کرے گا اور اگر وہ اس خلاف شرع کام میں مبتلاء ہو چکا ہے تو اپنے علاقہ میں کو آپریٹو سوسائٹی کھلوا کر اس سے لین دین رکھے گا تاکہ ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہو جائے اور رفتہ رفتہ سود کی لعنت سے بھی بچ سکے۔اور اگر وہ ملازم ہے تو حتی الامکان مسلمانوں کے پامال شده حقوق انہیں دلوانے کی کوشش کرے گا۔اور اگر ایسے مقدمات پیش آتے ہیں تو وہ مقدور بھر مسلمان و کیلوں کے پاس جائے گا۔اور ان مٹھی بھر مسلمان حکام کی عزت کی حفاظت کا یہ خیال رکھے گا کہ جنہیں برادران ِ وطن ہر طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اور اسلامی اخبارات کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہے گا اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں ہر ممکن طریق سے حصہ لے گا۔اور مسلمانوں میں صلح اور آشنی پھیلانے اور ان میں سے تفرقہ دور کرنے کی کوشش کرتا رہے گا کہ وہ کام ہے جس کی اسلام کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔اور یہ وہ قربانی ہے جس سے اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ کام یقیناً لڑ کر مر جانے سے ہزار درجے بڑھ کر مشکل ہے۔پنجاب کے ہر شہرمیں جوش سے بڑھ بڑھ کر جان دینے والے آدمی ایک دن میں ہی پیدا کئے جا سکتے ہیں لیکن اس قربانی کے لئے جو لمبی اور نہ ختم ہونے والی قربانی ہے بہت ہی کم آدمی اس وقت میسر آسکتے ہیں۔لیکن اسلام کو فتح اسی طرح نصیب ہو گی اور اسے غلبہ اسی طرح حاصل ہو گا۔پس اس کی طرف توجہ کرو اور خدا پر توکل کر کے اٹھ کھڑے ہو۔جوسست ہیں انہیں ہوشیار کرو۔اور جو سو رہے ہیں انہیں جگاؤ اور جو کمزور ہیں انہیں سہارا دو اور جو روٹھے ہوئے ہیں۔انہیں مناؤ۔اور خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ کہ عزت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے۔اور معزز وہی ہے جس کی قوم معزز ہوتی ہے۔یاد رہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اور تمام عزتیں آپ کو اس وقت تک حقیقی