انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 587

انوار العلوم جلد 9 ۵۸۷ کیا آپ اسلام کی زندگی چاہتے ہیں ؟ آج ہر قسم کے ایسے افعال سے اجتناب کریں جو گو آپ کے جوشوں کو تو نکال دیں لیکن اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچا دیں۔ اے بھائیو! وہ دو بہادر اور وفادار جو آج قید خانے کو زینت دے رہے ہیں ان میں سے ایک یعنی "مسلم آؤٹ لک" کا ایڈیٹر میرا روحانی فرزند ہے اور ایک مخلص احمدی ہے اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ کسی بہادری سے اس نے غیرت اسلامی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کا اور اس کے بھائی کا قید میں رہنا مجھے جسقدر شاق گزر سکتا ہے اس کا اندازہ دوسرے لوگ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح میری صحت کمزور ہے اور آج کل تو روزانہ بخار ہوتا ہے مگر اس حالت میں بھی دن اور رات موجودہ اسلامی مشکلات کی فکر میں اور ان کے دُور کرنے کی تدابیر میں لگا رہتا ہوں۔ پس میں جو کچھ کہتا ہوں محض اسلام کی عزت اور آپ لوگوں کے فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔ خدا اور اس کے رسول کے لئے جس وقت جان دیتا ہی ضروری ہو گا اس وقت اگر میں زندہ ہوا تو انشاء اللہ تَعَالٰی میں سب سے آگے ہوں گا اور خدا کے فضل سے کسی کو آگے نکلنے نہیں دوں گا۔ لیکن عقل کہتی ہے کہ اس وقت ہمارے فوائد اس امر سے وابستہ ہیں کہ ہم حسن تدبیر سے اور گورنمنٹ کے ساتھ صلح رکھ کر اپنے مقاصد کو حاصل کریں۔ اے بھائیو! اس وقت ہندوستان میں اسلام کی زندگی اور موت کا سوال پیش ہے اور اس وقت ہماری ذراسی کو تاہی ہمیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنا دے گی۔ پس اس بیداری کو جو خدا تعالٰی نے مسلمانوں میں پیدا کی ہے رائیگاں نہ جانے دو۔ چاہئے کہ ہم اس شخص کی طرح کام نہ کریں کہ جسے سوتے سے جگایا جاتا ہے تو اٹھ کر جگانے والے کو مار کر پھر لیٹ جاتا ہے بلکہ ہماری بیداری حقیقی بیداری ہو اور ہم ان کاموں میں بڑے زور سے لگ جائیں جو اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے لئے ضروری ہیں۔ اسلام کی زندگی آپ کی موت سے نہیں بلکہ آپ کی زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ نہ خیال کرو کہ اس وقت تک ہماری زندگی سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک آپ کی زندگی غفلت کی زندگی تھی حقیقی زندگی نہ تھی۔ اسلام کے لئے زندگی بسر کر کے دیکھو تو تھوڑے ہی دنوں میں سب غلامی کے بند ٹوٹنے لگ جائیں گے اور ذلت کی گھڑیاں جاتی رہیں گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں غیرت کا چشمہ پھوڑ دیا ہے جو روز بروز ایک زبردست دریا کی شکل میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ اس دریا کے پانی کو پھیلنے نہ دو کہ وہ اس طرح ضائع ہو جائے گا اور پھر یہ دن میسر نہ ہوں گے۔ اس دریا کو اس کے کناروں کے اندر رہنے دو اور اسلام کے دشمنوں کے کھودے ہوئے گڑھوں کی وجہ سے جو آبشاریں بن رہی ہیں ان سے بجلی لے کر ایک نہ دینے والی طاقت پیدا کرو تا خدا آپ پر راضی ہو اور آئندہ آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں۔