انوارالعلوم (جلد 9) — Page 578
۵۷۸ زمانہ میں ہی بگر گیا تھا تب بھی کسی شخص کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کے احساسات کا لحاظ نہ کرتا ہوا ایسے الفاظ استعمال کرے جو خواہ مخواہ ایک حصہ بنی نوع انسان کا دل دُکھانے والے ہوں۔خصوصا ً ایک تبلیغی جماعت کا تو یہ فرض ہے کہ وہ سخت کلامی سے کام نہ لے تا وه دو سروں اقوام متنفّر ہو کر اس کی بات سننے سے احتراز نہ کرنے لگیں۔پس ان حالات میں جب کہ مجھ پر قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ اس کتاب کے صفحہ ۶۵ تک بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو سکھ صاحبان کے دل کے کھانے والے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہیں۔میں یہ اعلان کر تا ہوں کہ سلسلہ کے نام پر میں اس کتاب کو ضبط کر تا ہوں۔آئندہ کسی سلسلہ کے اخبار میں اس کا اشتہار نہ چھپے ، کوئی احمدی اسے نہ خریدے اور جو خرید چکے ہیں وہ فوراً اس کتاب کو تلف کر دیں اور جب تک اس کتاب کے سخت الفاظ بدل کو مہذب طریق سے مضمون کو پیش نہ کیا جائے ،اس کتاب کی بندش رہے۔اور نہ احمدی اسے خود خریدیں اورنہ وو سروں کو خریدنے کی تحریک کریں چونکہ اس سے پہلے بھی ماسٹر صاحب کو کہا جا چکا تھا کہ وہ ایسے طریق سے باز رہیں جس سے اقوام میں منافرت پھیلتی ہو لیکن انہوں نے احتیاط کا طریقاختیار نہیں کیا۔اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ انہیں کسی اشتہار یا کتاب کے شائعکرنے کی اس وقت تک اجازت نہ ہوگی جب تک کہ صیغہ تالیف و تصنیف اسے دیکھ نہ لے اور اگر وہ بغیر منظوری کے کوئی تحریر شائع کریں گے تو فوراً اس کے متعلق جماعت میں اعلان کر دیا جائے گا کہ اسے کوئی نہ خریدے۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مجھے جماعت کے بعض لوگوں کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سکھ صاحبان کی طرف سے بھی ایسے مضمون شائع ہو رہے ہیں جن میں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی جاتی ہے۔چونکہ مجھے ایسے مضمون وکھائے نہیں گئے میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی تازه واقعہ ایسا ہوا ہے یا نہیں۔لیکن اگر کوئی ایسا تازہ واقعہ ہوا ہے تو اس کو میرے سامنے پیش کرنا چاہئے۔اگر سکھ صاحبان ہمارے رسول اور ہمارے مذہب کی توہین اور ہتک کرتے ہیں تو میں اس کے خلاف اسی طرح آواز بلند کروں گا کہ جس طرح آریہ کتب کے خلاف میں نے آواز بلند کی تھی۔لیکن ایسے أمور میرے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔ہر ایک شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اپنے خیال سے ہی ایسا کام شروع کر دے جو فساد کا موجب ہو سکتا ہو۔رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت میں