انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 577

۵۷۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسوله الكريم مذہبی رواداری کی بے نظیر مثال (تحریر فر مودہ ۷ جولائی ۱۹۲۷ء بمقام کنگزے شملہ) برادران السلام عليكم کچھ عرصہ ہوا میرے پاس قادیان کے کچھ سکھ صاحبان بطور وفد آئے۔اور انہوں نے شکایت کی کہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے کی کتاب "گورو نانک صاحب کا مذہب‘‘ میں ان کے پیشواؤں پر حملہ کیا گیا ہے۔میں یہ یقین نہیں کر سکا تھا کہ کوئی احمدی ایسا کرے۔لیکن چونکہ بعض حوالے مجھے ایسے بنائے گئے جو میرے نزدیک واقعہ میں قابل اعتراض تھے اس لئے میں نے انہیں تسلی دلائی کہ اس کتاب کے متعلق تحقیق کر کے میں مناسب کارروائی کروں گا۔اس وعدہ کے مطابق میں نے صیغہ تالیف و تصنف کو توجہ دلائی کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کر کے رپورٹ کرے۔صیغہ کی رپورٹ کو پڑھنے اور ان عمارتوں کے دیکھنے کے بعد جو رپورٹ میں نقل کی گئی ہیں، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ گو یہ کتاب قانون کی زد میں نہ آتی ہو مگر سکھوں کا دل دُ کھانے کے لئے کافی ہے۔میں اس امر کا قائل نہیں ہوں کہ ہمیں صرف اس بات سے بچنا چاہئے جو قانون کی زد میں آتی ہو بلکہ ہمارے لئے گورنمنٹ انگریزی کے قانون سے بھی بڑا قانون ایک اور ہے اور وہ شریعت اسلام کا قانون ہے۔اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم بد گوئی اور سخت کلامی سے احتراز کریں اور بچیں۔اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو ہمیں ایسی تحریر و تقریر سے بچنا چاہئے جو بد گوئی پر مشتمل ہو۔مزید بر آں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضرت باوانانک رحمة اللہ عليه کی نسبت تحقیق سے لکھا ہے کہ وہ ایک ولی اللہ اور خدا رسیدہ بزرگ تھے اور اسلام کے ماننے والے تھے۔پس ایسے بزرگ کے جانشینوں کو بغیر کسی قطعی ثبوت کے سخت الفاظ سے یاد کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیق پر پانی پھیرنا ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک ہے۔لیکن اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ سکھ مذہب گورؤوں کے