انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 571

۵۷۱ حق ا ن کو مل نہ جائے۔میں نے سنا ہے کہ ملازمتیں تو الگ رہیں تعلیم میں بھی مسلمانوں کی ترقی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ پیشہ سکھانے والے کالجوں میں مسلمان مل چالیس فی صدی داخل کئے جائیں۔اگر یہ صحیح ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان کبھی اپنے حق کو حاصل ہی نہ کر سکیں۔کیونکہ جو لوگ چالیس فیصدی کالجوں میں داخل کئے جائیں گے وہ پچپن في صدی یا پچاس فی صدی حق پانے کے قابل کبھی ہو ہی نہیں سکتے۔پس چاہئے کہ مسلمان ایک ایک کر کے ہر ایک صیغہ کے متعلق نہ ختم ہونے والی جدوجہد کریں اور اس وقت تک بس نہ کریں جب تک ان کے حقوق انہیں مل نہ جائیں۔اگر انہیں اپنے اوپر رحم نہیں آتا تو کم سے کم اپنی آئندہ نسلوں پر رحم کریں اور انہیں دائمی غلامی میں نہ چھوڑیں۔اتحاد عمل اور اس کا طریق یہ تینوں تجویزیں اس وقت مسلمانوں کے آزاد ہونے نہایت سے عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگ اکھٹے نہ ہو جائیں۔مسلمانوں کی ناکامی ان کے تفرقہ کا نتیجہ ہے۔وہ مخالفین اسلام کے دھوکے میں آکر آپس میں ایک دوسرے کی گردن کاٹتے رہتے ہیں اور دشمن ہنستا ہے کہ میں خود انہی کے ہاتھوں ان کو تباہ کر دوں گا۔آؤ آج سے فیصلہ کر لو کہ خواہ کس قدر ہی اختلاف مذہبی یا سیاہی ہو غیر قوموں کے مقابلہ میں ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ہمارے مذہبی، سیاسی، تمدنی، اقتصادی اختلاف ہمیں آپس میں مل کر کام کرنے سے نہیں روکیں گے۔ہم اپنے مذہب پر قائم رہیں اور محبت سے اس کی تلقین کریں۔اپنا کوئی اصل نہ ترک کریں نہ کسی سے ترک کرائیں۔لیکن ہم باوجود ہزاروں اختلافات کے اس امر کو نہ بھولیں کہ ایک نقطہ ہے جس پر ہم سب جمع ہو جاتے ہیں۔اور ایک مقام ہے جہاں آکر ہم سب بسیرا کر لیتے ہیں۔وہ نقطہ كلمہ لا اله إلا الله ہے۔اور وہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک ہے۔پس مخالفین اسلام کے مقابلہ کے لئے ہم سب کو جمع ہو جانا جائے تاکہ ہمارا اختلاف ہماری تباہی کا موجب نہ ہو۔یہ اتحاد ایسا ہو کہ ہم اس میں سے کسی کو باہر نہ رہنے دیں۔خلافتی یا خوشامدی، لیگ کا ماننے والا یا کانگرسی، عدم تعاونی یا ملازم سرکار کسی کو بھی ہم اپنے سے دُور نہ کریں کیونکہ اس عظیم الشان جدوجہد میں ہمیں ہر ایک میدان کے سپاہی کی ضرورت ہے۔خلافتی کی بھی ہمیں اسی طرح ضرورت ہے جس طرح خوشامدی کی۔ابھی سے ہر ایک اپنا اپنا کام کر سکتا ہے۔اس لئے چاہئے کہ مفید تجویز کسی کی طرف سے پیش ہو خواہ وہ ہمار ا کس قدر ہی دشمن ہو