انوارالعلوم (جلد 9) — Page 565
۵۶۵ غیر قوموں میں ہوں۔ان دونوں قسم کے مقدمات میں ہی عدالت کا مقاطعہ مقاطعہ کہلا سکتا ہے۔لیکن کیا ایسا مقاطعہ ہم سے ممکن ہے؟ ایک وقت میں ایسے سینکڑوں کیس عدالت میں داخل ہوتے ہیں جن کا ہزاروں مسلمانوں پر اثر پڑتا ہے۔پس کیا یہ بات اسلام کے فائدہ کی ہو گی کہ ہزاروں غریب مسلمان اس مقاطعہ کی وجہ سے جیل خانہ میں جائیں اور ہزاروں مسکینوں، غریبوں، بیواؤں، یتیموں کے حقوق عدمِ پیروی کی وجہ سے تلف ہو کر غیر قوموں کو مل جائیں۔اس طریق کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ مسلمان جو آگے ہی اقتصادی طور پر تباہ ہو رہے ہیں بالکل تباہ ہو جائیں گے۔پس ہمیں اس تدبیر کو ہرگز اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔تکرار فعل دوسرا طریق یہ بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اس فعل کو متواتر کریں جو مسلم آؤٹ لک والوں نے کیا ہے۔میرے نزدیک یہ طریقی بھی عمل اور قانون شکنی کے (پہلے یہ فعل قانون شکنی نہ تھا، لیکن اب ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ فعل قانون شکنی ہو گیا ہے) اپنی ذات میں بے فائدہ ہے۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہائی کورٹ اس امر کاپابند نہیں کہ اس شخص پر مقدمہ چلائے جو اسی کی نظر میں عدالت کی ہتک کرنے والا ہے۔اگر وہ اس کا پابند ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ لاکھوں مسلمان مسلم آؤٹ لک کی نقل کریں۔ہائی کورٹ کہاں تک لوگوں کو جیل خانہ میں ڈالے گا۔آخر تنگ آجائے گا۔لیکن جب کہ وہ ہر ایک پر مقدمہ چلانے کا پابند نہیں تو وہ صرف یہ طریق اختیار کرے گا کہ بڑے بڑے لوگوں کو پکڑے گا دوسروں کے فعل کو نظر انداز کر دے گا۔اس سے صرف مسلمان کمزور ہو جائیں گے اور کچھ فائدہ نہ ہو گا۔مثلاً مسلمانوں کے لاہور میں چار روزانہ اخبارات ہیں اگر روزانہ ان میں مسلم آؤٹ لک کے نوٹ کے ہم معنی نوٹ شائع ہوں تو ہر روز چار آدمیوں پر ہائیکورٹ مقدمہ چلائے گا ان چار آدمیوں کو یا آٹھ آدمیوں کو روزانہ گرفتار کر کے بھی ہائی کورٹ کو کیا نقصان پہنچے گا۔اور پھر اس طریق سے اسلام کو کیا فائدہ ہو گا۔اگر چھوٹے چھوٹے آدمیوں کو اس امر کے لئے آگے بھیجا گیا تو یہ قابل شرم ہو گا اور انتہائی درجہ کی قومی غداری ہوگی۔اور اگر بڑے بڑے سب لوگ اس طرح جیل خانوں میں چلے گئے تو اسلام کو نقصان پہنچانے والے اور بھی خوش ہوں گے۔انہیں ہندوستان میں اسلام کو نقصان پہنچانے اور اپنی من مانی کارروائیاں کرنے کا اور کبھی موقع مل جائے گلے پس یہ تدبیر بھی قابل عمل نہیں ہے۔سکھوں کی کوششوں پر قیاس نہیں کرنا ہے کیونکہ وہاں عملی جدوجہد تھی۔یہ ایک گوردوارہ میں زبردستی