انوارالعلوم (جلد 9) — Page 535
۵۳۵ (ii) کروڑوں روپیہ سالانہ مسلمانوں کے گھروں سے غیروں کے ہاں جاتا ہے جس کی واپسی کی کوئی صورت نہیں کیونکہ ہندو ان چیزوں کو مسلمانوں سے نہیں خریدتے۔پس آپ آج سے عہد کر لیں کہ کسی ایسے شخص کی پکی ہوئی یا اس کے ہاتھ کی چُھوئی ہوئی چیز کا استعمال نہیں کرناجب تک کہ وہ اپنی رَوش کو بدل کر مسلمانوں سے خریدنا اور ان کے ہاتھوں کا کھانا نہ شروع کر دیں۔اس طرح کروڑوں روپے مسلمانوں کا بچ جائے گا۔(iii) ہزاروں لاکھوں نَو مسلم ارتداد سے محفوظ ہو جائیں گے۔(iv) ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو کام مل جائے گا۔ہندو سیاحان اس کا نام بائیکاٹ رکھتے ہیں، اسے فساد کہتے ہیں مگر یہ رائے ان کی غلط ہے۔اگر یہ بائیکاٹ اور فساد ہے تو وہ اتنے عرصہ سے کیوں اس بائیکاٹ کو رائج اور اس فساد کو کھڑا کرتے آئے ہیں۔آج مسلمانوں کی اقتصادی ترقی کا راز اس چھوت کے مسئلہ میں مخفی ہے۔ہر ایک جو اس کو نظر انداز کرنا ہے وہ قوی غداریا قومی ضروریات سے غافل ہے۔میں نے آج سے قریباً ۱۵ سال پہلے سے اس آواز کو اُٹھایا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس طرف توجہ کے ساتھ ہی مسلمان اقتصادی آزادی کا سانس لینے لگیں گے۔اس لئے ضروری ہے کہ آپ تمام مسلمانوں کو بار بار تحریک کرتے رہیں اور اس کے متعلق لیکچر کراتے رہیں۔ضرورت کے وقت آپ صیغہ ترقی اسلام سے لے سکتے ہیں۔اور آپ کی طرف سے اطلاع آنے پر لیکچرار بھیجے جاسکتے ہیں۔(۱۷) مسلمانوں کو اس امر کی بار بار تحریک کرنی چاہئے کہ وہ وقتی طور پر اپنے جوش کا اظہار کرنے کی بجائے استقلال سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ہر ایک فساد جو پیدا ہوتا ہے وہ اسلام کو مادی اور روحانی طور پر کمزور کر دیتا ہے۔پس فسادسے بچنے اور مستقل ارادہ سے کام کرنے کی طرف آپ اپنے گردوپیش کے لوگوں کو تحریک کرتے رہیں۔اس وقت تک میں نے دُنیوی تدابیر بتائی ہیں۔اور ان کو پہلے بیان کرنے کی یہ وجہ نہیں کہ وہ زیادہ اہم ہیں بلکہ یہ کہ اس وقت ملک کی حالت ایسی ہو رہی ہے کہ لوگ دین کی بات فوراً سننے لئے تیار نہیں ہیں۔پس میں نے چاہا کہ جو لوگ دین سے بے پروا ہیں وہ بھی اس طرف متوجہ ہو جائیں۔دینی کاموں میں سے مفصّلہ ذیل آپ کر سکتے ہیں۔(۱۸) آپ کے محلّہ اور آپ کے گاؤں میں ایسے لوگ ہیں جن کو ہندو تہذیب نے ہزاروں سالوں سے غلام بنا رکھا ہے۔چونکہ ہندو کہتے ہیں کہ ان کا ادب کروڑوں سال سے ہے اس