انوارالعلوم (جلد 9) — Page 531
۵۳۱ میں دین کی تعلیم سے اچھی طرح واقف ہوتا تو تبلیغ میں حصہ لیتا۔اگر وہ لیکچر دینے کا عادی نہیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ اگر مجھے لیکچر دینے کی عادت ہوتی تو میں ایسے دُھواں دھار لیکچر دیتا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگا دیتا۔اگر وہ مصنّف نہیں تو حسرت کرتا ہے کہ اگر میں مصنّف ہوتا تو دشمنان اسلام کو ایسے دندان شکن جواب دیتا کہ پھرا نہیں اسلام پر حملہ کرنے کی جرأت نہ رہتی۔غرض قسم قسم کے خیالات اس کے دل میں آتے ہیں اور پیچ و تاب کھا کر رہ جاتا ہے۔اس کی ساری قربانی جو وہ اسلام کے لئے کرتایا کر سکتا ہے، اس کی ساری خد مت جو وہ ہدیہ کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش کرتا یا کر سکتا ہے ایک سرد آہ ہوتی ہے کہ وہ بھی فرط یاس سے منہ تک آتے آتے رہ جاتی ہے۔اسلام کا درد رکھنے والے کی وہ گھڑیاں کچھ عجیب رقّت خیز گھڑیاں ہوتی ہیں۔اس کا اپنے جی ہی جی میں تڑپ تڑپ کر رہ جانا، اس کا اندر اندر ہی اپنے ہی غضب میں جل بجھ کر رہ جانا خود ایک تکلیف دہ قربانی ہوتا ہے مگر اس سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ؟ اے اسلام کا درد رکھنے والے انسانو! میں آپ لوگوں کی اس حالت کو اپنی باطنی نظر سے دیکھتا ہوں اور آپ کی یہ کرب کی گھڑیاں میری روحانی آنکھوں کے سامنے ہیں اور اسی لئے میں نے اس وقت قلم اٹھایا ہے تاکہ میں آپ لوگوں کو یہ بتاؤں کہ آپ کے لئے خدمت کے بہت سے راستے کھلے ہیں۔آپ اپنے گھر بیٹھے اور اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور انہیں دشمنوں کے حملہ سے بچا سکتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ میں یہ بتاؤں کہ آپ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کی کیا خدمت کر سکتے ہیں میں یہ بتانا چاہتا ہوں۔کہ موجودہ فتنہ ارتداد کی وجہ کیا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر آپ اچھی طرح نہیں سمجھ سکیں گے کہ آپ اسلام کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔میں نے اس فتنہ ارتداد کے مختلف پہلوؤں پر نظر کرکے اس حقیقت کو پالیا ہے جو اس فتنے کے نیچے مخفی ہے وہ ہمہ گیر تنزّل ہے۔جو مسلمانوں کی عام حالات میں رونما ہو رہا ہے۔مذہب اسلام سے نہ پہلے کوئی بیزار ہؤا نہ اب بیزار ہو تا ہے۔اس فتنہ کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے آج ترقیات کے تمام راستے بند ہیں اور وہ جمالت اور جمود کی انتہائی گہرائیوں میں گرے ہوئے ہیں۔علم میں وہ اپنی ہمسایہ قوموں سے پیچھے ہیں، تجارت میں و ہ پیچھے ہیں ، صنعت و حرفت میں وہ پیچھے ہیں، ملازمتوں میں وہ پیچھے ہیں، صرافی میں وہ پیچھے ہیں۔اور نہ صرف وہ ان امور میں دوسری قوموں سے پیچھے ہیں کہ اکثر شعبہ ہائے زندگی میں ان کے آگے ہونے کا راستہ بھی محدود ہے۔ہمسایہ