انوارالعلوم (جلد 9) — Page 532
۵۳۲ قوم ان کے راستے میں کھڑی ہے اور یہ نیت کر کے کھڑی ہے کہ ہم کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ہر طرف سے ترقی کے راستے بند ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی تربیت میں بھی نقص آگیا ہے۔زندگی کے مختلف پہلوؤں کا چونکہ انہیں تجربہ نہیں رہا ان میں مایوسی، گھبراہٹ، جلد بازی، عدم رواداری، بے استقلالی اور اسی قسم کے بیسیوں عیوب پیدا ہو گئے۔ان میں سے سینکڑوں یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ اگر اسلام سچا ہوتا تو مسلمان اس حالت کو کیوں پہنچتے اور ہندو اسقدر ترقی کیوں کرتے۔غرضیکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی پوری پوری تصدیق ہو رہی ہے کہ کاد الفقر ان یکون کفرا ۱؎ غربت کبھی ترقی کرتے کرتے کفر کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔پس اس فتنہ کا مقابلہ جی طرح کہ مذہبی ذرائع سے کیا جانا ضروری ہے۔سیاسی اور تمدنی ذرائع سے بھی اس کا مقابلہ ہونا ضروری ہے اور آج جو شخص ایک انگلی بھی ان ذرائع کے مہیا کرنے کے لئے اٹھاتا ہے وہ اسلام کی حفاظت میں اپنی خدمت کے مطابق حصہ لیتا ہے۔ان تمہیدی فقرات سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آپ خواہ کسی شعبہ زندگی میں حصہ لے رہے ہیں آپ اسلام کی خدمت اپنے دائرہ میں خوب اچھی طرح کر سکتے ہیں۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مندرجہ ذیل امور میں سے سب میں یا بعض یا کسی ایک میں حصہ لے کر آپ اسلام کی خدمت میں حصہ لے سکتے ہیں۔(1) اگر آپ مسلمانوں کی تمدنی حالت درست کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور کسی محکمہ میں مسلمانوں کی ملازمت کا انتظام کر سکتے ہیں۔تو آپ ان سے اقرار کر لیں کہ جہاں تک آپ کے اختیار میں ہو گا آپ جائز طور پر مسلمانوں کی بیکاری کو دُور کرنے میں مدد دیں گے اور اپنے اس ارادہ سے صیغہ ترقی اسلام قادیان ضلع گورداسپور کو اطلاع دیں گے جسے اس کام کے لئے میں نے مقرر کیا ہے۔(۲) اس انجمن کے مراکز۔کام کی زیادتی کے ساتھ إنشاء الله ہر صوبہ میں قائم کئے جائیں گے۔(۳) چونکہ کئی مسلمان مسلمانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کا ارادہ تو رکھتے ہیں لیکن انہیں مناسب آدمیوں کا علم نہیں ہوتا اس لئے آپ کو اگر ایسے مسلمانوں کا علم ہو جو کسی قسم کے روزگار کے متلاشی ہیں تو ان لوگوں کو تحریک کریں کہ وہ اپنے نام سے صیغہ ترقی اسلام کو جسے موجودہ فتنہ کے دُور کرنے کے لئے میں نے قائم کیا ہے اطلاع دیں۔یہ بھی آپ کی ایک اسلامی خدمت ہو گی۔یہ صیغہ ہر جگہ تحریک کر کے مسلمانوں کی بیکاری کے دُور کرنے کی کوشش کرے گا۔