انوارالعلوم (جلد 9) — Page 512
۵۱۲ AGNOSTICISM (دہریت کی بنیاد ڈالی ہے اس نے یہ نہیں کہا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ خدا کوئی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ سائنس کی تحقیقات سے خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔اور یہ ہے بھی درست۔کیونکہ سائنس تو وہاں تک پہنچتی نہیں۔یہ وجود تو فوق المحسوسات ہے اور سائنس کادائره مادیات اور محسوسات تک محدود ہے۔پس وہ اس کے متعلق تحقیق کر ہی نہیں سکتی۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ کوئی شخص ریل کے ذریعے کابل جانا چاہے اور راولپنڈی سے ٹرین میں بیٹھ جائے مگر آخر ناکام ہو کر یہ نتیجہ نکال لے کہ کابل کوئی شہرہی نہیں۔حالانکہ ظاہر ہے کہ کابل جانے کا یہ طریق ہی غلط تھا کیونکہ ریل تو وہاں تک جاتی ہی نہیں۔اسی طرح سائنس دانوں نے سائنس کے تجربات سے خدا کا پتہ لگانا چاہا اور وہ ناکام ہوئے۔محض اس لئے کہ سائنس وہاں جاتی نہیں اس کا دائرہ اس سے بہت نیچے ہی ختم ہو جاتا ہے۔صادقوں کی شہادت اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر بات صرف سائنس کے تجربات اور مشاہدات سے ہی تسلیم نہیں کی جاتی بلکہ اس کے اور ذرائع بھی ہیں۔مثلا ً راستبازوں کی شہادت وغیرہ۔ہم سائنس دانوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کو ماں باپ کا پتہ کس نے دیا۔کیا انہوں نے سائنس کے شواہد اور تجارب سے معلوم کیا ہے کہ فلاں شخص فلاں کا باپ ہے یا کسی اور ذریعہ سے۔یہ ظاہر ہے کہ اس کا ثبوت ماں باپ کا دعویٰ اس کی اپنی یاد کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے انہی کے گھر میں رہتا ہے اور لوگوں کی شہادت بھی ہے۔اسی طرح خدا کے وجود کے ثبوت کے لئے (جو کہ فوق المحسوسات ہے) راستبازوں کی شہادت کی ضرورت ہے جو اس بارے میں صاحب تجربہ ہوں۔جو لوگ صحیفئہ فطرت سے خدا کا وجود ثابت کرنا چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشین کھول کر موجد کا پتہ لگاناچا ہے۔مثلاً کوئی شخص اگر سِنگر کی سلائی کی مشین کو کھول کر مسٹر سِنگر (MR۔SINGER) کو دیکھنا چاہے تو وہ اس کو نہیں پائے گا۔اسی طرح فورڈ کار (FORD CAR) کو کھول کر مسز فورڈ (MR۔FORD) کو معلوم کرنا چاہے تو اسے نہیں ملے گا۔وہ تو اسے بنا کر الگ ہو گیا۔اب مشین کو دیکھ کر آپ عقلاً صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اس مشین کا بنانے والا کوئی ’’ہو گا‘‘۔یا ’’ ہونا چاہئے‘‘۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا بنانے والا مسٹر فورڈ یا سِنگر ضرور ’’ہے"۔اس پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ خدا تو ہر وقت اس صحیفہ قدرت کی مشینری کو چلا رہا ہے۔اس لئے اس کو تو نظر آنا چاہئے۔مسٹر فورڈ تو اِس لئے فورڈ کار کے اندر نظر نہیں آتا کہ وہ اس کو اب