انوارالعلوم (جلد 9) — Page 505
۵۰۵ اپنی ناک کاٹ لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ ہر بات سے ایک طبعی نتیجہ نکالتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا شرعی نتیجہ بھی ہوتا ہے۔مثلاً اس آیت سے طبعی نتیجہ یہ نکالا ہے کہ ہر چیز مفید ہے۔اور موذی اشیاء سے بھی خدا کی حمد ہی نکلتی ہے۔اس سے ایک شرعی بھی نکالا ہے اور وہ یہ کہ ثم الذين کفروابربهم یعد لون یعنی بعض لوگ جو اس حقیقت کو نہیں سمجھے وہ شرک کرنے لگ پڑے ہیں۔مثلاً زرتشتی مذہب کے لوگ۔ان کا یہ عقیدہ ہے کہ موذی اشیاء کا خالق کوئی اورہے۔وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا چو نکہ رحیم ہستی ہے اس لئے موذی اشیاء مثلاً سانپ اور بچھو زہر وغیرہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔لہٰذا موذی اشیاء کا خالق کوئی اور ہونا چاہئے۔مگر یہ غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے موذی اشیاء کی پیدائش کی حقیقی غرض کو نہیں سمجھا۔ورنہ وہ ضرور اس نتیجہ پر پہنچتے کہ ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔پس ہر ایک بظاہر لغو اور موذی چیز اصل میں مفید ہے۔اس کی پیدائش کی غرض نیک ہے۔اور اس سے خدا کی حمد ہی ثابت ہوتی ہے۔ہاں اگر ہم قوانین طبعی کی خلاف ورزی کر کے نقصان اٹھائیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔اس سے خدا تعالی کے رحم پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔ہر چیز کاجوڑاہے قرآن نے فرمایا۔ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ پیدا کیا ہے۔یعنی ہر چیز کا جوڑا ہے۔فرمایا و من كل شيئ خلقنا زوجين لعلکم تذكرون ۵ پر آتا ہے۔ومن كل الثمرات جعل فيها زوجين اثنين – ۹؎ گویا نر اور مادہ مل کر مکمل ہوتے ہیں۔اگر یہ دونوں آپس میں نہ ملیں تو ان کی مادی قوتیں ظاہر نہیں ہو سکتیں۔عرب کو کھجور کے جوڑے کا تو علم تھا مگر ان کو ہر درخت کا جوڑ ا ہونے کا علم نہ تھا اور نہ ہی غیرذی روح اشیاء کے جوڑے کا علم تھاجب تک کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو اُن پر منکشف نہ کیا۔ایک یورپین مصنّف لکھتا ہے۔تم عرب کے لوگوں کو جاہل مت خیال کرو اُن کو اس حقیقت کا علم تھا کہ درختوں میں نرومادہ ہوتے ہیں۔میں ایک دفعہ گورداسپور گیا اور وہاں کے ایگریکلچر ل فارم کا ملاحظہ کیا۔تو وہاں کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مجھ کو بتایا۔یہ گیہوں کے خوشے جو ہیں ان میں سے فلاں نر اور فلاں مادہ ہیں۔جب سائنس میں اور ترقی ہو گی تو باقی درختوں کے بھی جوڑے معلوم ہو جائیں گے۔غیرذی روح اشیاء مثلاً بجلی وغیرہ کا بھی جوڑا ہے۔منفی اور مثبت بجلی کا آپ کو علم ہے۔غرض اس اصل کو بیان کر کے قرآن کریم نے علمی دنیا پر ایک عظیم الشان احسان کیا ہے اور اس کے