انوارالعلوم (جلد 9) — Page 492
۴۹۲ کہ واقعی سیوا جی بڑا ہوشیار اور دانا راجہ تھا اور اورنگ زیب ایک ڈاکو بادشاہ تھا۔میں یہ نہیں چاہتا کے خواہ مخواہ مسلمان بادشاہوں کی تعریف کی جائے بلکہ میں یہ چاہتا ہوں جو جائز حق ہے وہ ہمارے بادشاہوں کو دیا جائے اور جو ان کی جائز تعریف ہو سکتی ہے وہ کی جائے میں یہ نہیں کہتا کہ اورنگ زیب کو ولی قرار دو لیکن کم سے کم اس کی طرف وہ عیب تو منسوب نہ کرو جو اس نے نہیں کئے۔اصل میں قومی کیریکٹر پچھلی روایات پر مبنی ہوتا ہے اگر اسلاف کی طرف سے اچھے کارناموں کی تار یخ بچوں تک پہنچے تو وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے اچھے نام کوذلّت سے بچانا ہمارا فرض ہے اور اگر وہ یہ خیال کریں کہ ہمارے اسلاف اچھے نہ تھے تو چو نکہ وہ اپنی قومی عزت کچھ سمجھتے ہی نہیں وہ اس کی حفاظت کا بھی چنداں خیال نہیں کرتے اور ان کے اخلاق اعلی ٰنہیں ہوتے اور حوصلہ اور استقلال نشوونما نہیں پاتا پس کتب تاریخ کی اصلاح نہایت ضروری ہے ہندوؤں سے اپیل میں آخر میں ہندوؤں سے بھی اپیل کرتا ہوں اور سچی ہمدردی کے ساتھ کرتا ہوں میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرے دل کے کسی گوشہ میں بھی ان کی عداوت نہیں ہاں جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے تکلیف محسوس کرتا ہوں اس لئے میں ملک کے نام سے، مذہب کے نام سے، انسانیت کے نام سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو بدلو۔ہم دنیا کے لئے بار اور بوجھ ہو رہے ہیں اور لوگ ہم پر نالاں ہیں کہ ہم بجائے ترقی کے تنزل کرتے چلے جارہے ہیں ہمارا ملک دوسرے ممالک کی طرح عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج لوگ ہم پر ہنس رہے ہیں میں اپنی حالت کوبدلو اور اپنے ساتھ رہنے والی قوم کی مدد کرو، اور اس سے مدد حاصل کرو۔مسلمانوں سے مخاطبہ مسلمانوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑو نہیں اور اخلاص سے کام لو وہ کام کرو جو ملک کے لئے عزت کا موجب ہو۔۔دلوں سے کینہ ، بُغض، تعصّب نکال دو خواہ وہ کینہ اور تعصب اپنوں کے خلاف ہو خواہ غیروں کے۔ہر قدم پر ملک کی بھلائی کو مد نظر رکھو اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کا احترام کرو، ان سے محبت اور پیارے ر ہو۔آخری الفاظ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صلح غلام ہو کر نہیں ہوا کرتی صلح آزاد ہو کر ہؤا کرتی ہے۔پس مسلمانوں کو چاہئے کہ تمدنی اور سیاسی ترقی کر کے دوسری اقوام کی غلامی سے آزاد ہوں۔دیکھو صلح کرنے والا بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی