انوارالعلوم (جلد 9) — Page 452
۴۵۲ ہے۔ہندو مسلمانوں میں بھی یہی ہوا۔اگر ہندو اور مسلمانوں نے یہ نہ سمجھ لیا ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کی طرف سے دھوکا دیئے گئے ہیں تو ان کی آپس میں لڑائی نہ ہوتی۔اور اگر ہوتی تو سمجھانے سے کم ہو جاتی مگر یہاں دونوں نے یہ سمجھا کہ ہم کو دھوکا دیا گیا ہے۔حالانکہ ان کو دھوکا نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کے نفسوں نے دھوکا کھایا تھا کہ جو بات صلح نہ تھی اسے صلح سمجھ لیا تھا۔مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ہندوؤں نے باوجود صلح کے ان باتوں کو نہیں چھوڑا جن سے مسلمانوں کو رنج پہنچتا تھا تو انہیں غصہ آیا کہ ابھی صلح کا فیصلہ ہوا تھا لیکن انہوں نے اس کی کچھ پرواہ نہیں کی اور ابھی تک بدستور وہی کام کر رہے ہیں جن سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ادھر ہندوؤں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں نے وہی باتیں کرنی شروع کر دیں جن سے انہیں تارانتی تھی تو انہیں بھی غصہآیا۔مطلب یہ کہ دونوں نے سمجھا ہمیں دھوکا دیا گیا ہے اور یہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجہ میں ملک کا امن برباد ہو گیا۔اس وقت میں چاہتا ہوں کہ اس کے متعلق میں اپنے خیالات آپ لوگوں کے سامنے ظاہر کروں کہ اس نزاع کے اصل بواعث کیا ہیں؟ اور ان حالات میں جب کہ نزاع پیدا ہو چکی ہے اور ملک کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے امن کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ جو باتیں میں بیان کرو اگر انہیں غور سے سناجائے گا اور ان کے مطابق عمل کیا جائے گا تو بہت جلد امن قائم ہو جائے گا۔وجوہ ِفساد میں ان فرقہ وارانہ فسادات اور نزاعات کے باعث تفصیلی طور پر تو اس قلیل وقت میں بیان نہیں کر سکتا مختصر طور پر جو کچھ کہہ سکتا ہوں یہ کہوں گا۔میرے نزدیک موجودہ فسادات کے بواعث یہی ہیں جو میں بیان کروں گا اس لئے جس طرح سبب نہیں رہتا تو مرض بھی نہیں رہتا اسی طرح اگر یہ بواعث نہ رہیں تو فسادات بھی نہ رہیں گے۔سیاسی رواداری اور مساوات کاعدم سب سے پہلا باعث جوان فسادات کا ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی رواداری اور مساوات کا خیال مفقود ہے۔سیاسی رواداری کی تو ہم لوگوں نے قیمتی نہیں سمجھی اور مساوات کے اصول کی اہمیت سے بے خبر ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ رواداری کا چرچا عام ہو ہر ایک یہی خیال کرتا ہے کہ جس چیز پر اس کا قبضہ ہو گیا وہ اسی کے لئے ہے اور اسی کے فائدہ کے لئے ہے دوسروں کے فائدہ کے لئے نہیں۔یہ رواداری کے جذبہ کے نہ ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر ایک آدمی ایسا خیال کرتا ہے۔اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ رواداری کا جذبہ لیاقت اور علم سے پیدا ہو