انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 436

انوار العلوم جلد 9 ۳۶ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء توجہ کا اثر جاندار چیزوں پر ہوتا ہے بے جان پر نہیں ہوتا۔ لیکن دعا میں تو ایسا رنگ پیدا ہوتا ہے کہ جس کا اثر دنیا پر جا کر پڑتا ہے۔ دُعا خالی انسان پر ہی اثر نہیں کرتی بلکہ وہ طبیعات میں بھی تبدیلیاں پیدا کر دیتی ہے۔ انسان یہ توجہ کر سکتا ہے کہ فلاں شخص میرا دوست ہو جائے لیکن یہ توجہ نہیں کر سکتا کہ کھیت سرسبز ہو جائے یا بارش ہو جائے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کہاں اللہ تعالی نے کہا ہے کہ صرف دُعا ہی ایک ذریعہ ہے جس سے کام ہوتے ہیں بغیر اس کے کوئی کام نہیں ہوتا۔ اور بھی تو اس کے قوانین ہیں۔ بغیر دعا کے جو کام ہو جاتے ہیں ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو کہیں سے گری ہوئی چیز مل جائے تو دوسرا ہمیشہ کے لئے ہیں قانون سمجھ لے کہ اس کا کام بھی بیٹھے بٹھائے ہو جائے گا۔ یہ اتفاقی باتیں ہوتی ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے مصائب کو دور کرنے یا ضروریات کے پورا کرنے کے لئے دعا کرو تو اس سے یہ تو ہمارا مطلب نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ دُعا کے بغیر اور کسی طرح بھی رحم نہیں کرتا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالٰی نے اپنے رحم کے لئے دو قسم کے قانون رکھے ہوئے ہیں ایک قانون دعا ہے اور ایک عام قانون قدرت ہے۔ پھر اصل سوال تو یہ ہے کہ وہ کام جو دعا سے ہوا ہے آیا وہ بغیر دعا کے ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ کام دُعا کے بغیر واقعی نہیں ہو سکتا۔ پھر تو کل کا یہ مفہوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہی دعا کو سن لے گا بلکہ یہ مفہوم ہے کہ خدا ایسا کر سکتا ہے۔ میں اس کے رحم پر امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا کو سن لے گا۔ پس دُعا کی یہ اہمیت ایسی ہے کہ اس کے بغیر دُعاء دُعا ہی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے برہمو لوگ بھی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ قبولیت کے معتقد نہیں۔ اور میرے نزدیک بھی اگر ہماری ضروریات ہمیں مجبور نہ کریں تو دنیا کے متعلق نا منظور ہونے والی دعا منظور ہونے والی دعا سے بڑھ کر ہمارے لئے نتیجہ خیز ہے کیونکہ ایک تو وہ عبادت میں شمار ہو گی جو ہماری زندگی کا اصل مقصد ہے اور دوسرے اس کے عوض میں آخرت میں درجہ ملے گا اور ہمیں زیادہ حسنات ملیں گی۔ ہمیں عقلاً بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی بچہ تو نہیں کہ وہ ہماری دعا سے بہل جاتا ہے اور ہماری ہر بات منظور کر لینے پر تیار ہو جاتا ہے۔ یہ غلط خیال ہے جس میں عام مسلمان گرفتار ہیں۔ اگر خدا تعالی ایسا ہی ہے تو وہ ہمارے ماتحت ہوا نہ کہ بادشاہ۔ ہاں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دعاؤں میں اثر بھی ہوتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کوئی خاص منتر ہیں یا خاص لفظ ہیں بلکہ وہ دُعائیں اس لئے اپنا اثر دکھاتی ہیں کہ اس میں دُعا کا وہ مغز ہوتا ہے جس سے انسان پر وہ حالت طاری ہو جاتی ہے جو دُعا میں ہونی چاہئے۔ جیسا کہ سورۃ