انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 430

۴۳۰ نہیں۔اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں غیراحمدیوں میں ذکر کا غلط طریق چلا آتا ہے۔انہوں نے چند کلمے بتائے ہوئے ہیں جن میں وہ رٹتے رہے ہیں اس کے لئے کچھ سانس بھی مقرر ہوتے ہیں۔یہ تمام فضول طریق ہیں جن سے روحانیت اور بھی خراب ہو جاتی ہے۔بھلا بتاؤ جب بھائی کا ذکر کرتے ہو تو خاص قسم کا سانس لیا کرتے ہو۔تو کیا الله تعالی ہی ایسا ہے کہ جس کے ذکر کے لئے خاص سانسوں اور خاص آوازوں کی ضرورت ہے۔یہ طریق نہایت مکروہ اور روحانیت کو برباد کر دینے والے ہیں یہ تو مسمریزم کی طرح ہیں اور مسمریزم کوئی ذکر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بھی ان طریقوں کو ناپسند ہے کرتے تھے۔اور تجربہ بھی بتاتا ہے کہ روحانیت کے لئے یہ خطرناک طریق ہیں۔جو شخص ان طریقوں سے ذکر کرے گا اس کی روحانیت ماری جائے گی۔وه بندر کی طرح ہو جائے گا۔اس کی ذاتی قابلیت جاتی رہے گی۔وہ ایک نقّال بندر ہو گا جس کی ایک رسّی ہوگی کہ جس کے ذریعہ اس کا مردہ پِیر اُسے نچارہا ہو گا اور میں تجربوں کے ساتھ ان طریقوں کے نقصانات دکھا سکتا ہوں۔یہ نہ سمجھو کہ مجھے وہ طریق آتے نہیں۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کوئی موجودہ پِیر میرے سامنے لے آؤ۔اور جو بھی طریق اختیار کرے اور ادھر میں بھی ایسا طریق اختیار کروں گا کہ اس سے نصف وقت میں میری طرف کے شخص پر وہ حالت طاری ہو جائے گی جو وہ طاری کیا کرتے ہیں۔مجھے تو کبھی سمجھ نہیں کہ بھلا سانس کا ذکرالہٰی سے کیا تعلق۔ان پیروں کے اذکار کا تو ایسا معاملہ ہے جیسا کہ افیون کھانے والوں کا ہوتا ہے۔ایک دوست نے جو احمدی ہونے سے پہلے بھنگ کے عادی تھے۔بتایا کہ جب میں نے بھنگ پی تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ میں عرش پر پہنچ گیا ہوں اور تمام زمانہ میرے قابو میں آگیا ہے اور دنیا میرے قبضہ میں ہے۔غرض ان چیزوں کے ذریعہ دماغی قوتوں کو مار دیا جاتا ہے۔اور اس طریق سے یقیناً ایک بڑا طبقہ مجنون ہو جاتا ہے۔حقیقی ذکرو ہ ہے کہ جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو دل میں داخل کرے۔انسان میں اللہ تعالیٰ نے ووقسم کی قوتیں رکھی ہیں۔ایک قوت حواس ظاہری کی ہے اور ایک قوت ارادی ہے۔ان دونوں قوتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔چنانچہ جب اعصاب کمزور ہو جائیں تو قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے۔اور تجربہ بتاتا ہے کہ سانسوں سے دماغی اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور چند دن کے اندر ایسا انسان دیوانہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بہترین طریق عرفان رکھا ہے۔لیکن اس کے خلاف دوسرے لوگوں کو دیکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ دل سے آوازیں اُٹھتی ہیں حالانکہ یہی تو جنون ہے۔کیا کبھی دل سے بھی آوازیں آیا کرتی ہیں۔آواز تو دماغ کے ذریعہ انسان کو پہنچتی