انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 431

۴۳۱ ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ نے دل کو اپنے انوار کا مہبط بنایا ہے۔مگر دل بولا تو نہیں کرتا اور نہ دل دیکھا کرتا ہے۔کسی بات کو محسوس کرنا، یہ دماغ کا کام ہے۔اور در حقیقت آنکھیں نہیں دیکھتیں بلکہ دماغ دیکھ رہا ہوتا ہے۔دماغ میں ایسی قوت اور اعصاب اللہ تعالیٰ نے رکھے ہیں کہ جن کے ذریعہ آنکھ دیکھتی ہے ورنہ اگر یہ حصہ کاٹ دیں تو آنکھ خواہ سلامت بھی ہو تو نہیں دیکھ سکتی۔چوتھاذریعہ حصول تقویٰ کا دُعا ہے۔تقویٰ کے حصول کے ذرائع میں سے دُعا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔دُعاؤں کی عادت ڈالنے سے بھی تقویٰ نصیب ہوا ہے۔اس لئے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دُعاؤں پر بہت زور دیں۔میں رکھتا ہوں کہ نئے لوگوں میں دُعاؤں کے لئے یہ جذبہ اور جوش نہیں جو حضرت مسیح موعودؑ کے زمانہ کے لوگوں میں ہے۔میں ان دوستوں کو خصوصیت کے ساتھ دُعاؤں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔خدا تعالی کے حضور دُعائیں بڑی عجیب ہیں اور بہت بڑا اثر رکھتی ہیں۔لیکن میں اس موقع پر دعا کے متعلق چند غلطیوں کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔دُعاکے متعلق لوگوں کو چار غلطیاں کی ہیں۔ایک غلطی تو یہ ہے کہ دعاؤں میں کوئی اثر نہیں کیونکہ دیکھا جاتا ہے کہ دعا کے بغیر بھی تو کام ہو رہے ہیں اور بعض کام باوجود دُعا کے نہیں ہوتے۔دو سری غلطی یہ ہے کہ دُعا میں توجہ نہیں پیدا ہوتی۔دُعا کریں تو کیونکر۔پہلی غلطی کا ازالہ تو یہ ہے کہ پہلے یہ معلوم کرنا ہے کہ دُعا کی غرض کیا ہوتی ہے۔اس کا اصلی مقصد کیا ہے۔اگر تو دُعا کا صرف یہ مقصد ہے کہ جو کچھ مانگا جاۓ وہی ضرور مل جائے تب تو اس مقصد کے پورا نہ ہونے کی صورت میں واقعی ظلم ہے۔بے شک اگر یہی مقصد دُعاکا ہے تب تو مقصد ضرور پورا ہونا چاہئے اگر پورا نہ ہو تو ظلم خیال کیا جائے گا لیکن ہم کہتے ہیں کہ دُعا کا یہی حقیقی مقصد نہیں کہ جو چیز مانگی جائے وہی ضرور مل جائے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر دُعا کا یہی حقیقی مقصد ٹھہرایا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ دنیا میں انسان کوئی کام نہ کرے انسان یہ دعا کرے گا کہ بغیر اس کے کچھ کرنے کے اس کے کام خود بخود ہو جائیں۔اصل بات یہ ہے کہ دُعا کے ساتھ انسان کو کام بھی کرنا پڑتا ہے۔دُعا کی قبولیت کے لئے اور بھی شرائط ہیں جو پوری کرنی چاہئیں۔اب دیکھو۔طبیب ایک بیمار کو کہتا ہے کہ تم یہ دوائی استعمال کرو لیکن اس کے ساتھ اچھی غذا بھی استعمال کرو فلاں غذا سے پرہیز کرو اور کھلی ہوا میں رہو۔وہ شخص ان چار باتوں میں سے ایک بات پر عمل کرے اور باقی تین پر عمل نہ کرے اور تندرست نہ ہو تو وہ آکر کہے کہ میں اور تندرست نہیں