انوارالعلوم (جلد 9) — Page 11
انوار العلوم جلد 9 11 افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے ولی کیفیت کا اظہار ان کے بیٹوں نے کہا کہ یہ بوڑھا اب اس غم میں ہلاک ہو جائے گا حالانکہ حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کی موت کا فکر اور اندیشہ نہیں تھا کیونکہ ان کو خداتعالیٰ نے بتایا ہوا تھا کہ یوسف ان کو مل جائے گا لیکن ان کے نادان بیٹے نہیں جانتے تھے اور حضرت یعقوب نے بھی ان کو کسی مصلحت کی وجہ سے نہیں بتایا تھا ۔ مگر حضرت یعقوب غم کرتے تھے اور یا یا سَفَى عَلَى يُوسُفَ کہتے تھے ۔ تو وہ یوسف پر افسوس نہیں کرتے تھے بلکہ وہ تو ان بیٹوں کے لئے غم کرتے اور روتے تھے تاکہ یوسف ان کا بھائی جلد مل جاوے اور ان کو معاف کرے اور وہ خدا کی نظر میں منظور ہوں۔ مگر وہ نادان میں کہتے تھے کہ یہ بڑھا تو بس غم میں مرہی جائے گا۔ حضرت یعقوب کے متعلق الله تعالى وَهُوَ كَظِيم کا لفظ فرماتا ہے اور عظیم اس شخص کو کہتے ہیں جس پر غم کی وجہ سے اس قدر رفت غالب ہو کہ اس کی وجہ سے وہ کلام نہ کر سکے ۔ تم میں سے بھی بعض لوگوں نے مجھے یہی کہا اور سمجھ لیا کہ بس اب تو یہ اپنی بیوی کے غم میں ہلاک ہو جائے گا۔ ان نادانوں کو یہ علم نہیں کہ میرے پانچ بچے فوت ہو چکے ہیں ان میں سے ایک پر میں نے صرف ایک آنسو بہایا تھا اس لئے کہ تا میں شقی القلب نہ ٹھروں اور اس لئے کہ رسول الله اللہ بھی اپنے بچے کی وفات پر روئے تھے لیکن اس وقت جو مجھ کو افسوس ہوا ہے وہ اس لئے ہے کہ جو سکیم میں نے تیار کی تھی وہ اس طرح درہم برہم ہو گئی۔ یہ حزن نہیں تھا بلکہ آئندہ کے لئے غم تھا۔ اس ایک بچہ کی وفات پر جو میں نے ایک آنسو بہایا تھا اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب میں بمبئی صحت کے لئے گیا تو وہاں میری لڑکی بیمار ہو گئی اس کی بیماری کی حالت میں میں ایک دن کے لئے کہیں باہر گیا۔ میری عدم موجودگی میں مجھے وہ اس قد ر یاد کرتی کہ ابا ابا کہہ کر مجھے پکارتی۔ اس کی نزع کی حالت تھی اس وقت میں گھر واپس آیا تو دیکھا کہ وہ تڑپتی اور کہتی تھی۔ کیا میرے میرے ابا ابا آگئے آگئے اور اور گا گھر ھر والوں والوں نے نے بتایا بتایا کہ کہ و وہ آپ کے پیچھے آپ کو بہت یاد کرتی اور پکارتی رہی ہے۔ ان حالات کا طبعی اثر میرے قلب پر ہوا اور میں نے آنحضرت ال کی سنت پر ایک آنسو بہا دیا ۔ بچوں کی وفات پر گو میں طبعی اثر سے خالی نہ تھا۔ خدا نے مجھے شقی القلب نہیں بنایا ہے لیکن ایسا اثر نہیں ہوا کیونکہ مجھے کوئی یقینی علم نہیں تھا کہ یہ دین کے لحاظ سے کیسے ہوں گا لیکن یہاں تو ایک وجود کو دس سال تک تربیت کر کے تیار کیا اور اس پر بڑی امیدیں تھیں ایسا وجود ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا جس سے مستورات کی تعلیم و تربیت میں بہت بڑی مدد کی توقع تھی۔ لوگوں کی تو