انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 420

انوار العلوم جلد 9 ۲۰ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء ایک چیز ہے۔ خاندانی وجاہت کی وجہ سے ایک شخص کو معمولی لیاقت سے وہ عہدہ مل جاتا ہے جو دوسرے کو اعلیٰ لیاقت پر نہیں ملتا۔ اسی طرح ذہن کی وجہ سے ایک انٹرنس پاس کو تین سو ملتے ہیں اور دوسرے بی۔ اے کو اتنے نہیں ملتے۔ یا ایک تجربہ کار انٹرنس پاس کو تین سو ملتے ہیں اور دوسرے بی۔ اے کو ساٹھ ملتے ہیں۔ تو دنیا میں خالی ڈگریوں سے کام نہیں ہوا کرتا بلکہ کام کے لئے اور باتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً چوہدری متح محمد صاحب ایم۔ اے ہیں۔ آج سے ۱۴ سال پہلے انہوں نے ایم۔ اے پاس کیا۔ اس وقت وہ ولایت تبلیغ کے لئے گئے۔ اور پہلے بغیر ایک پیسہ تک انجمن سے لینے کے وہاں کام کیا۔ وہ اس رنگ میں گئے تھے کہ خواجہ صاحب صرف ان کو روٹی دے دیا کریں گے۔ ایک ایم اے پاس کے لئے یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔ انہیں دنوں میں مسٹر وائس پرنسپل نے جو ان کو پڑھاتا رہا متواتر یہاں خط لکھے کہ میں نے چوہدری فتح محمد کے لئے کالج میں ایک پروفیسر کی جگہ خالی کرائی ہے جس طرح بھی ہوا نہیں منگوا دو۔ اگر وہ اس وقت اس آسامی پر لگ جاتے تو آج سے چودہ سال پہلے وہ ڈھائی سو لے سکتے تھے اور یہاں چودہ سال کی سروس کے بعد آج ایک سو ستر ملتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں۔ چلو ہم تمہارے کہنے سے آج ہی ان کو علیحدہ کر دیتے ہیں۔ تم ہمیں انہیں کی طرز کا کوئی آدمی لا دو۔ جو ذہن کے لحاظ سے، لیاقت کے لحاظ سے چوہدری صاحب سے زیادہ تو کیا ان جی سا بھی ہو۔ چہ وہ سال اس نے ملازمت کی ہو ڈھائی سو روپیہ آج سے چودہ سال پہلے تنخواہ لیتا ہو اور یہ خصوصیات بھی اس میں ہوں تو ہم بڑی خوشی سے رکھنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر مفتی محمد صادق صاحب ہیں۔ جو جس سروس کو چھوڑ کر آئے اس وقت ان کے ما تحت آج ۵۰۰ لے رہے ہیں۔ اگر وہ اس سروس پر رہتے تو کم از کم آج ۸۰۰ لے لیتے۔ ہم ان کو علیحدہ کرنے کو تیار ہیں مگر ہمیں تم ان کی طرح کا وہ آدمی دے دو جو گورنمنٹ سے ۸۰۰ تنخواہ بھی لے سکتا ہو۔ اور پھر اس میں مفتی صاحب کی خصوصیات بھی ہوں۔ مثلاً السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں سے ہو۔ حضرت مسیح موعود کی محبت سے انہیں کی طرح فیض یافتہ ہو۔ اور ان کا سی لیاقت اور قابلیت رکھتا ہو۔ ان کا سا تجربہ کار ہو۔ تو آج اگر ان خصوصیات کا آدمی ہمیں ۲۰۰ پر بھی مل جائے تو ہم غنیمت سمجھتے ہیں۔ پھر میر محمد اسحاق صاحب ہیں جو ناظر ضیافت ہیں۔ وہ لنگر کا کام اور دینی خدمات بغیر تنخواہ کے سرانجام دیتے ہیں۔ مدرسہ احمدیہ میں وہ مدرس ہیں اور دوسرے مدرسوں کی طرح ان کو بھی