انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 419

۴۱۹ آخر وہ بھی اس وہم میں مبتلاء ہو گئی اور اس غلام سے کہنے لگی۔اس کا علاج کیا ہے۔اس نے کہا کہ علاج یہ ہے کہ آپ کے خاوند کے ڈاڑھی کے دو بال ہوں جن سے تعویز بنایا جاوے۔تب اس کایہ خیال جاسکتا ہے۔اس نے کہا کہ یہ کیونکر ممکن ہے۔غلام نے کہا کہ یہ تو بہت آسان ہے جب وہ سو رہا ہو تو استرے سے دو بال اتار لیں۔عورت اس کام کے لئے تیار ہوگئی۔خاوند گھر میں آیا۔رات کو عمداً ایسے طور پر لیٹ گیا کہ گویا وہ سور رہا ہے۔اب اس کی بیوی نے اُسترالیا اور خوب تیز کیا۔اس کا گردن کے پاس لانا تھا کہ خاوند نے اسی اُسترے سے بیوی کو غضب میں آکر قتل کر دیا۔ن خیر جب دہ پکڑا گیا اور اسے قتل کا سبب پوچھا گیا تو اس نے وہی ظنّی سبب بتایا جو غلام سے سنا ہوا تھا۔تحقیقات پر عورت بری ثابت ہوئی۔تب آقا نے غلام سے کہاتُو نے یہ کیا حرکت کی۔غلام نے عرض کی حضور سے میں نے تو پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ سال میں ایک جھوٹ بولا کرتا ہوں اور وہ یہی جھوٹ تھا۔اب دیکھو ظنّ کی بناء پر کیا کچھ ہوا۔کوئی قوم جیت نہیں سکتی جس میں بد ظنّی کامادہ ہو کیونکہ اس صورت میں کام ہونا محال ہوتا ہے۔ایک قصہ مشہور ہے۔ایک دفعہ نابینا اور سوجاکھا دونوں کو اکٹھا کھانا کھانے کا موقع پیش آگیا نابینا حریص تھا پہلے تو اس نے جلدی جلدی کھانا شروع کردیا۔پھر اسے خیال ہوا کہ یہ سوجا کھا تو مجھے دیکھ کر جلدی جلدی کھارہا ہو گا تو دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر اس پر بھی نہ ہو سکا اس نے خیال کیا کہ ممکن ہے کہ سوجا کھا بھی میری طرح دونوں ہاتھوں سے کھا رہا ہو تو اس نے کپڑے میں کھانا ڈالنا شروع کیا۔مگر اس پر بھی اکتفا نہ کر سکا۔یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ بھی کپڑے میں ڈال لے گا کھانے کا برتن اٹھالیا اور کہاتم جاؤ تم تو ساراکھانا ہی کھا جاؤ گے۔سوجا کھا بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ہنسنے لگا کہ یہ کہاں تک پہنچا ہے تو بد ظني بہت انتہاء پر لے جاتی ہے۔ناظرانِ سلسلہ کی قربانیاں میں مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ ہم سے بعض نے کس طرح بد ظنی سے کام نیا ہے۔ایک دوست نے مجھے لکھا کہ قادیان میں بڑے بڑے کارکنوں پر اتناروپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔آدھی تنخواہ پر ان سے زیادہ لا ئق آدمی مل سکتے ہیں۔اب دیکھو یہ ایک ظن ہے جو بہت دور تک پہنچتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آدمیوں کی لیاقتیں محض ڈگریوں پر نہیں ہوتیں۔کاموں میں محض ڈگریوں کو ہی نہیں مد نظر رکھا جاتا۔بعض وقت تجربہ کو دیکھا جاتا ہے۔بعض دفعہ ذہن رسا دیکھا جاتا ہے۔محض ڈگری کوئی چیز نہیں۔خاندانی وجاہت بھی ایک چیز ہے۔ذہن رسا بھی ایک چیزہے۔پھر سوسائٹی بھی