انوارالعلوم (جلد 9) — Page 413
انوار العلوم جلد و الد الله نظاری جلسه سالانه ۱۹۳۶ء بارسوخ خاندان ہے تمام کا تمام احمدی ہو گیا ہے۔ یہ صاحب پانچ زبانیں جانتے ہیں اور بہت اخلاص رکھتے ہیں۔ یہاں اُردو زبان اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ غرض اس سال تبلیغ کا کام اچھے پیمانہ پر ہوا ہے۔ اب میں ایسا طریق تبلیغ نکالنے والا ہوں کہ اس سے اگلے سال بغیر زائد خرچ کے اور ممالک میں بھی جماعتیں قائم ہوں گی۔ مولوی ظہور حسین صاحب کی واپسی ایک اور خوش کن بات یہ ہے کہ ہمارے وہ عزیز جو دو سال ہم سے جدا رہے دو سال کی قید کے بعد چھوٹ کر آئے ہیں۔ آپ لوگوں نے ان کی تقریر سنی ہوگی۔ کہ روسی گورنمنٹ نے ان کو کیا کیا تکلیف دیں۔ تاریک قید خانوں میں ان کو ڈالا گیا۔ میں نے گورنمنٹ انگریزی کو ان کی خبر معلوم کرنے اور واپس بلانے کے لئے لکھا۔ اس موقع پر میں گورنمنٹ انگریزی کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نے کوشش کر کے ان کا پتہ لگایا اور واپس ہندوستان میں بھیج دیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمانوں سے ہمدردی نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بچھی بات ہے ہمیں تو اسلام سے ہمدردی ہے۔ اب دیکھو ایک طرف اسلام کی تبلیغ کرنے مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں پتھروں سے مارے جاتے ہیں اور ایک طرف عیسائی گورنمنٹ ہمارے گم شدہ آدمی کو تکلیفوں اور قید خانوں سے نکال کر ہندوستان واپس لاتی ہے حالانکہ وہ عیسائیت کے خلاف تبلیغ کرنے جاتا ہے۔ محمد امین خان صاحب کے متعلق بھی افواہ تھی کہ وہ قتل ہو گئے ہیں۔ اب ایک دوست کا خط آیا ہے کہ یہ غیر معتبر افواہ ہے۔ پچھلے سال جلسہ پر معا میرا حلق خراب ہو گیا۔ تین ماہ تک آواز بالکل خراب رہی۔ جس کے اثر سے قریباً سارا سال میری طبیعت خراب رہی دودھ کا ایک چمچہ سوڈے کے ساتھ بھی ہضم نہیں کر سکتا تھا۔ دست ہو کر نکل جاتا تھا۔ باوجود اس کمزوری صحت کے خدا نے بہت سا کام کرنے کی توفیق بخشی۔ اس سال ترجمہ قرآن کریم بھی کر رہا ہوں۔ اس کا ایک حصہ اگلے سال اِنْشَاء الله مکمل ہو کر شائع ہو جائے گا۔ سلسلہ کی قوت و عظمت اس سال اللہ تعالی کے فضل سے ہمیں ایک اور عظمت اور قوت حاصل ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ نمائندوں کے انتخاب میں وہ لوگ جو ہمیں کافر سمجھتے تھے اور ہماری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے انہوں نے بھی