انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 409

۴۰۹ جب حجازیوں کو معلوم ہوا کہ اِٹلی کی حکومت مکّہ و مدینہ پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اِٹلی والے اس قسم کے لوگ ہیں کہ جب وہ حملہ کرنا چاہیں تو وہ کسی کے روکے رُکا نہیں کرتے اس لئے اُنہوں نے ترکوں کو لکھا کہ اگر آپ ان کی حفاظت اور اٹلی سے مقابلہ کی طاقت رکھتے ہیں تو آپ تیار ہو جائیں ورنہ ہمیں اسلام کی عزت اور لئے علیحدہ کردیں تا ہم خود حفاظت کا بندوبست کر لیں۔ترکوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس فوجیں نہیں ہیں۔تو پھر عرب ان سے علیحدہ ہو گئے اور انگریزوں سے مدد لی۔میرے نزدیک انہوں نے اَرض حجاز کی حفاظت کے لئے نہایت دُور اندیشی سے کام لیا۔مگر ادھر کے مسلمان اس کے مخالف ہوگئے اس وجہ سے کہ وہ انگریزوں سے کیوں میں مل گئے۔ہاں انگریزوں کا عربوں سے معاہدہ تھا کہ وہ تمام عرب کو آزاد کر دیں گے۔اس معاہدہ کی بناء پر جنگ کے ختم ہونے پر آزادی کا مطالبہ کی۔مگر جنگ کے ختم ہونے کے بعد خود یورپ کی حکومتوں میں ملکوں کی تقسیم کے متعلق اختلاف تھا اس لئے انگریز آزادی کا فیصلہ نہ کر سکے اور عربوں کو آزادی نہ ملی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شریف حسین نے غلطی سے چیلنج دے دیا کہ اگر آزادنہ کرو گے تو میں خلافت کا دعوی ٰ کردوں گا اور تمام مسلمانوں کو تمہارے خلاف کھڑا کر دوں گا۔انگریز جانتے تھے کہ مسلمان تائید تو کیا کریں گے۔اس کے خلافت کے دعوی ٰکے ساتھ ہی خود اس کے مخالف ہو جائیں گے۔ادھر شریف حسین ابھی عرب کو انگریزوں کے پنجہ سے نکالنے اور آزاد کرانے کی سی کوشش کر رہا تھا کہ اِبن سعود خلاف کھڑا ہو گی اب اِبن سعود کی طاقت زیادہ تھی وه آخر جیت گیا اور لڑائی میں قبے وغیرہ بھی گرائے گئے۔دوسرے لوگوں نے کہا کہ اب یہ ہمارے سپرد کر دو۔لیکن سعودی لوگ بھلا کہاں وہ چیز دوسروں کو دے سکتے نے جس پر ان کی طاقت خرچ ہوئی تھی۔بھلاشیر کے منہ سے بھی کسی نے شکار چُھرایا ہے۔شیر نے اپنے پنچوں سے شکار مارا۔اب وہ گیدڑوں کے کہنے سے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ تمہارے پیچھے پیچھے پھرتے تھے شکار چھوڑ سکتا ہے؟ تمہارے ریزولیوشنوں سے تو اِبن سعود نہیں جیتا ہے۔تم نے اتنے ریزولیوشن ترکوں کی تائید میں پاس کئے تھے تو کیا اس سے و ہ جیت گئے۔ہمارا رویہ عرب کے مسئلہ میں یہی ہے کہ عرب کی بہتری اور بہبودی اس میں ہے کہ وہاں مستقل حکومت ہو خواہ وہ کوئی ہو۔عرب کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک ان میں ایک باقاعدہ اور مستقل حکومت قائم نہ ہو۔اب چونکہ ابن سعودی حاکم بن چکا ہے اور اس کو طاقت حاصل ہو چکی ہے اس لئے اب اس کی ہی حکومت کا قائم رہنا عربوں کے