انوارالعلوم (جلد 9) — Page 377
۳۷۷ دنوں میں اپنے مرتبہ عمل سے گر جاتا جس طرح کہ اگر عورت کو اس کے دائه عمل میں گھر کی چار دیواری میں چادر اوڑھ کر کام کرنے کا حکم دیا جائے تو وہ گھبرا جائے اور کام نہ کر سکے۔اس فرق کے مقابلہ میں مرد کو یہ حکم ہے کہ وہ عورت کے دائرہ عمل میں بالکل گھسے ہی نہیں اور اس کو آزادی سے اپنا کام کرنے دے پس حکم برابر ہے عورت اگر مر دکے دائرہ عمل میں گھستی ہے تو اس کے لئے حکم ہے کہ چادر اوڑھ لے اور مرد اگر عورت کے دائرہ عمل میں جانا چاہتا ہے تو اسے حکم ہے کہ بِلا عورت کی اجازت کے ایسا نہ کرے اور مرد کے لئے یہ سختی بھی عورت کی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ مرد کے دائرہ عمل میں عورت کے بھی حقوق ہیں اور عورت کے دائرہ عمل سے مرد کے حقوق وابستہ نہیں۔پس عورت کو اجازت کی ضرورت نہیں رکھی بلکہ صرف اوٹ کرلینا کافی رکھا ہے اور عورت کے دائرہ عمل میں مرد کے بِلا اجازت داخلہ کو روک دیا ہے۔پردہ کے مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد حضرت عائشہ کے واقعہ کو سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں۔حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کی اوٹ میں کھڑے ہو کر ان فوجی کرتبوں کو دیکھ رہی تھیں جن کو مصنف ہفوات اپنی نادانی سے ناچ گھروں کے ناچ سے تشبیہہ دیتا ہے پر ان کا چہرہ تو اوٹ میں تھا اور وہ لوگ جو کرتب کررہے تھے ہاتھوں سے یہ کام کر رہے تھے ان کے چہرہ پر نظر ڈالے بغیر اور آنکھ سے آنکھ مِلائے بغیر آپ ان کے فنون کو دیکھ سکتی تھیں پس یہ بھی شریعت کے خلاف بات نہ تھی اس طرح ضروری اور علمی امور کو دیکھنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ جیسامیں پہلے ثابت کر آیا ہوں ضروری ہے۔حضرت فاطمہ کی نسبت روایات شیعہ اور سنی سے ثابت ہے کہ وہ بھی گھر سے باہر نکلتی تھیں اور رسول کریم ﷺ کے پاس بھی تشریف لاتی تھیں اور حضرت ابوبکر سے فدک کا مطالبہ کرنے بھی تشریف لے گئی تھیں اور کہیں تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس وقت قناتیں کھینچ کر پردہ کر دیا جاتا تھا یا یہ کہ مردوں کو راستہ چلنے سے روک دیا جاتا تھا اپنے اوقات میں لازماً ان کی نظر بھی گلیوں میں چلنے والے مردوں کے بعض حصص پر پڑتی ہو گی جس طرح کہ گلیوں میں چلنے والے مردوں کی نظر آپ کے ایسے حصص پر جو چھپائے نہیں جاسکتے پڑتی تھی۔پس جو امور کے خود ان لوگوں سے سرزد ہوتے رہے ہیں جن کو کہ آپ لوگ بھی بزرگ سمجھتے ہیں ان پر اعتراض کرنا حد درجہ کی ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت عائشہؓ کا صرف اس قدر قصور ہے کہ جس بات کو بہت سے لوگ اپنی منافقت کے پردہ میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں حضرت عائشہ ؓاس کو مؤمنانہ