انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 378

۳۷۸ سادگی سے بیان کر دیتی تھیں اور یہ قصور عقلمندوں کے نزدیک قصور نہیں بلکہ قابل فخر جرات ہے۔حضرت علی کی محبت میں رسول کریمؐ کا انحراف حق سے ایک اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ تاریخ بغداد اور شرح نہج البلاغہ معتزلی میں لکھا ہے کہ عبد الله بن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک دفعہ ایک صاع کھجور کا ٹوکرا پڑا تھا اور آپ اس میں سے کھارہے تھے میں جو گیا تو مجھے بھی کہا کہ کھاؤ میں نے ایک کھجور اٹھائی اور حضرت عمر نے سب کھجوریں کھالیں اور ایک ٹھلیا پانی کی پی اور بار بار شکر خدا کا کرنے لگے۔پھر مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا مسجد سے۔حضرت عمر نے پوچھا تمہارے عمزادبر ادر کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا اپنے ہم سنوں میں کھیلتے ہوں گے (یعنی عبد اللہ بن جعفر)انہوں نے کہا نہیں میں تمھارے بزرگ اہل بیت (یعنی علی) کا پوچھتا ہوں؟ میں نے کہا وہ ایک باغ میں اُجرت پر پانی بھرنے جاتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے جاتے ہیں۔اس کے آگے مصنف ہفوات نے ان کتب کی عربی عبارت میں درج کی ہے۔قال يا عبدالله عليک د ماء البدن إث كتمتها ھل بقى في نفسه شي من أمر الخلافة قلت نعم وازيدک سئلت أبي عما عايد عيه فقال صدق قال عمر لقد كان من رسول اللہ من امر ذرو قول لا يثبت حجة ولا يقطع عذر و لقد كان يزيغ في , امرہ وقتا و لقد أراد في مرضه آن یصرح باسمه فمنعت من ذالك اشفاقا وحيطة على الإسلام ورب هذه البيت لا تجتمع عليه قريش أبدا و لووليها لا انتقضت عليه العرب من آطارفها فعلم رسول الله انی علمت مافئ نفسه فامسک والى الله الإمضاء ما حتم ۱۰۵؎ اس کا ترجمہ۔ان کے اپنے الفاظ میں یوں ہے۔حضرت عمر نے فرمایا اے عبداللہ تم پر اونٹوں کی قربانی فرض ہو جائے جو تم چھپاؤ- سچ کہو کیاعلی کے دل میں اب بھی ادعائے خلافت ہے؟میں نے کماہاں بلکہ میں اس سے زیادہ بتاؤں کہ میں نے اپنے باپ سے بھی یہ بات دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ علی کا دعویٰ سچا ہے۔حضرت عمر نے کہا کہ آنحضرت سے علی کے باب میں چند بار ایسے کلمات نکلے ہیں کہ وہ ثابت نہیں ہوتے اور نہ ان سے حجت قطع ہوتی ہے اس محبت کے سبب سے جو ان کو علی سے تھی اور آنحضرت نے اپنے مرض۔موت میں حق سے باطل کی طرف میل کرنا چاہا تاکہ نام علی کی صراحت کر دیں لیکن خدا کی قسم میں