انوارالعلوم (جلد 9) — Page 358
۳۵۸ رسول الله صلى الله علیه وسلم یقبل بعض آزواجه و هوصائم ۸۳؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض بیویوں کا حالت صوم بوسہ لے لیا کرتے تھے۔صاحب ہفوات کے تمام اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے کہ بحالت صوم زبان چوسناء بوسہ لینا، مباشرت کرنا حرام یا مکروہ ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔پس یہ احادیث شرارت سے بنائی گئی ہیں اور کتب احادیث سے ان کا اندراج ضروری ہے۔اخراج واحراق کے متعلق تو میں پہلے جواب دے آیا ہوں اس جگہ صرف نفس حدیث کے متعلق جو اعتراض مصنّف ہفوات نے کیا ہے اس کا جواب لکھتا ہوں۔پہلا اعتراض مصنّف ہفوات کو یہ ہے کہ ابو داؤد کی روایت میں یہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ میں حضرت عائشہ کی زبان چوستے تھے۔آپ کی ذات پر حملہ ہے۔اگر مصنف ہفوات اعتراض کرنے سے پہلے کتب اہل سنت والجماعت کو دیکھ لیتے تو ان کو اس اعتراض کے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔لیکن یا تو انہوں نے بوجہ تعصب یا جہالت ان کتب کو دیکھا ہی نہیں یا دیدہ و دانستہ نظرانداز کر دیا ہے۔ابو داؤد کی شرح عون المعبود جلد مجانی صفحه ۲۸۵ پر اس حدیث کے متعلق لکھا ہے۔قال في المرقاة قيل ان ابتلاع ريق الغير يفطر إجماعا وأجيب على تقدير صحة الحديث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہ عليه الصلوة كان يبصقه ولا يبتلعه ۸۴؎ یعنی مرقاة میں لکھا ہے کہ دوسرے کا تھوک نگلنابالا جماع روزہ توڑ دیتا ہے اور اس حدیث کے متعلق بالاجماع کیا جاتا ہے کہ اگر یہ درست فرض کرلی جائے تو اس کی یہ تاویل کی جائے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوک نگلتے نہیں تھے بلکہ پھینک دیتے تھے۔اس جواب سے ظاہر ہے کہ اہل سنت والحدیث اس حدیث کو قابل قبول ہی نہیں سمجھتے اور اگر اس کو صحیح فرض کر لیں تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس صورت میں یہ تاویل کرنی پڑے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوک پھینک دیتے تھے۔پس جب ائمہ حدیث کے نزدیک یہ حدیث ہی قابل قبول نہیں اور بصورت صحت قابل تاویل ہے تو اس پر اعتراض کیسا؟ کیا کسی شخص پراس امر کے متعلق بھی اعتراض ہوا کرتا ہے جسے وہ مانتاہی نہیں۔اگر کہا جائے کہ پھر انہوں نے اس حدیث کو درج کیوں کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مؤلّفین حدیث ہر حدیث جسے وہ نقل کرتے ہیں اس کے مطلب کو صحیح قرار دے کر اسے درج نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے ان کے اور اصول ہیں اور بسا اوقات وہ ایک حدیث درج کرتے ہیں اور خود ان کو اس کے