انوارالعلوم (جلد 9) — Page 4
انوار العلوم جلد 9 ام افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے ولی کیفیت کا اظہار کا خیال ہو اور انہوں نے اظہار نہ کیا ہو۔ ان نادانوں نے میرے پہلے حالات پر نظر نہ کی اور اگر کی تو باوجود ان حالات کے جانتے ہوئے بھی مجھ پر بدظنی کی۔ نبی کریم کے متعلق اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ کہ یہ رسول تو تم میں ہی رہا ہے تم اس کے حالات سے خوب واقف ہو ۔ اسی طرح آج میں بھی کہتا ہوں۔ او نادانو اور جاہلو ! میں بھی تم میں بچپن سے رہتا ہوں۔ تم نے میرے حالات کو جانتے ہوئے پھر میرے متعلق کیونکر اس قسم کی بدظنی کی اور میرے پہلے حالات پر کیوں نظر نہ کی۔ تم جانتے ہو کہ جس زمانہ میں غم اور حزن کے مارے تمہاری کمریں ٹیڑھی ہو رہی تھیں اس وقت میرے جادۂ استقلال میں فرق نہ آیا۔ اور میں نے کبھی غم اور حزن کو پاس نہیں آنے دیا ۔ یعنی تم اس پر انے تجربہ کی بناء پر سمجھ سکتے تھے کہ یہ خیال تمہاری اپنی نظر کی نابینائی کا نتیجہ ہے۔ تم اپنی نظر کی نابینائی کو میری طرف تو منسوب نہ کرتے۔ تم میرے ان مضامین کو جو میں نے راستہ سے لکھے دیکھتے ۔ اگر ان مضامین اور خطبہ میں کوئی ترتیب نظر نہ آتی تو دھو کا کا احتمال ہو سکتا تھا لیکن اگر ان میں باہم ترتیب ہو اور ایک ایک انچ باہم مطابق ہو تو تم کو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ تمہارا خیال تم کو غلطی میں مبتلاء کر رہا ہے اور تمہارا یہ خیال محض ایک بد ظنی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں دو چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ان کو غلطی لگی اور انہوں نے بد ظنی کی۔ ایک میرے چہرہ پر غم کے آثار اور آنسو ۔ دوسرے میرا مجلس میں آتے وقت لوگوں سے الگ رہنے کی درخواست کرنا یا مجلس سے علیحدہ کھڑے رہنا۔ اگر اللہ تعالی نے ان کو آنکھیں دی ہوئی تھیں ، اگر ان میں کچھ بینائی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ میری یہ علیحدگی آٹھ دن سے جاری ہے۔ اور اس کی وجہ اعصابی درد ہے جس کا لقوہ کی صورت اختیار کرنے کا ڈر تھا اور اسی وجہ سے باوجود یکہ امتہ الحی کی حالت اچھی تھی مگر میں مسجد میں نہیں آتا تھا۔ میں نے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے بھی جو میرے معالج تھے کہا تھا کہ جب لوگ مجھ پر ہجوم کر کے آتے ہیں تو معا مجھے اعصابی دورہ شروع ہو جاتا ہے ، میرے پیچھے کھنچنے لگتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ مجھے لقوہ ہو جائے لیکن اب اس واقعہ کے بعد باوجود اس تکلیف کے موجود ہونے کے معانماز میں آنا شروع کر دیا ہے تاکہ میری طرف کوئی یہ منسوب نہ کرے کہ میں ایسے رنج میں مبتلا ہوں جس کو برداشت نہیں کر سکتا ۔