انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 3

۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسوله الكريم افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے دلی کیفیت کااظہار (فرموده ۱۳- د سمبر ۱۹۲۴ء بعد از نماز عصر مقام مسجد اقصیٰ قادیان) سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج کل میری صحت اور ڈاکٹری مشورہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ میں کل کے خطبہ کے بعد اس قدر جلدی کوئی اور تقریر کروں لیکن بعض ایسے واقعات پیدا ہو گئے کہ جن کی وجہ سے مجبور ہو گیا اور باوجود اس کے کہ صحت کاتقاضااس کے خلاف ہے آج پھر آپ لوگوں کے سامنے کچھ بیان کروں گا۔پیشتر اس کے کہ میں کوئی اور مضمون بیان کروں میں یہ بتلادینا چاہتا ہوں کہ کل کی حالت سے آج کی حالت بالکل متضاد ہے۔کل کی حالت تو دعا کی تھی اور آج کی حالت غضب کی ہے۔کل تو میں اس انسان کی طرح تھا جس کے جسم کا ہر ذرہ اپنے رب کے سامنے پگھل کر اپنے لئے اور دوسروں کے لئے دعائیں کر رہا ہو اور آج اس حالت میں ہوں کہ میرے تمام حواس اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ میں کسی کے لئے بددعا نہ کروں۔مجھے بعض لوگوں کے اپنے خیالات معلوم ہوئے ہیں جو اس قسم کی بدظنیوں پر مشتمل تھے کہ جن میں میرے اخلاص اور ایمان پر ایسا حملہ تھا جس سے سرسے لے کر پیر تک میرے جسم کے اندر خون جوش مار رہا ہے۔بعض نادانوں اور جاہلوں نے میرے کل کے خطبہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا میں اپنی بیوی کی وفات پر صبر کے دامن کو چھو ڑ بیٹھا ہوں اور اب قریب ہے کہ میں غم کے مارے ہلاک ہو جاوں اس لئے وہ تسلی دینے لگے ہیں۔ممکن ہے کہ بعض اور لوگوں کو بھی اس قسم