انوارالعلوم (جلد 9) — Page 351
انوار العلوم جلد 9 ۳۵۱ حق الیقین میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے کشف الغمہ میں وہ روایت نہیں ملی جو مصنف ہفوات نے درج کی ہے۔ ہاں ایک حدیث اس میں ایسی موجود ضرور ہے جس کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف ہفوات کا اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مگر اس حدیث کے الفاظ اور ہیں اور مطلب اور ۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ حدیث کس پانیہ کی ہے کیونکہ کشف الغمہ کے مصنف مستقل محدث نہیں ہیں اور انہوں نے حوالہ بھی نہیں دیا کہ معلوم ہوتا کہ انہوں نے اس حدیث کو کہاں سے نقل کیا ہے تا اس کی حقیقت معلوم کی جاتی۔ لیکن اس بات میں کچھ شک نہیں کہ کشف الغمہ کی روایت خواہ بچی ہو خواہ جھوٹی اس اعتراض کی حامل نہیں ہو سکتی جو مصنف ہفوات نے کیا ہے مزید وضاحت کے لئے میں اس روایت کے الفاظ کشف الغمہ میں سے درج کر دیتا ہوں جو یہ ہیں۔ كَانَ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ عَلَى فَخِذِى وَيَدَيْهِ عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَكَبَّ فَاحْنَى عَلَى یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں تشریف لاتے تو میری رانوں پر اپنے گھٹنے ٹیکتے اور میرے کاندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیتے پھر میری طرف جھکتے اور مجھ سے شفقت و پیار کا معاملہ کرتے۔ کشف الغمہ کی اصل روایت اور ہفوات المسلمین کی بیان کردہ عبارت میں یہ نمایاں فرق نظر آرہا ہے کہ اس میں سانس چڑھ جاتی تھی کے الفاظ بالکل موجود نہیں۔ اور اگر یہ روایت کسی اور جگہ بھی درج ہے اور اس میں یہ الفاظ موجود ہیں تو مصنف ہفوات کا فرض ہے کہ اس کا حوالہ دے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان الفاظ کو جدا کر کے اعتراض کی جان نکل جاتی ہے کیونکہ شہوت و بوالہوسی کی روح انہی الفاظ سے پیدا ہوتی ہے۔ پس اگر فردوس آسیہ میں یہ الفاظ موجود بھی ہیں تب بھی باوجود اس کے کہ عام طور پر یہ کتاب مل جاتی ہے کشف الغمہ سے حوالہ نہ دینے کی غرض ہی مصنف ہفوات کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک اعتراض کی اور زیادتی ہو جائے۔ مصنف ہفوات کا منشاء اس روایت کے نقل کرنے سے یہ ہے کہ وہ اسے حالت جماع کا نقشہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ اس تلطف و مہربانی کا اظہار ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں پر فرمایا کرتے تھے۔ اور جو تمدن و اخلاق کی اساس ہے جس قدر متمدن اقوام ہیں ان میں یہ بات خصوصیت سے پائی جاتی ہے کہ خاوند کو اپنے گھر میں داخل ہونے پر بیوی سے خاص طور پر تلطف سے پیش آنا چاہئے اور اس روایت میں اگر یہ صحیح ہے اسی نقشہ کو کھینچا ہے اور اس روایت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس میں اس حالت کا ذکر ہے جب کہ حضرت عائشہ بیٹھی ہوا کرتی تھیں۔