انوارالعلوم (جلد 9) — Page 345
انوار العلوم جلد ؟ ۳۵ حق الیقین سکرات موت کی آسانی ہو۔ اور اس پر اعتراض کیا ہے کہ یہ کونسی طب کا نسخہ ہے کہ مسواک کسی کے منہ میں چھوا کر لی جائے تو اس سے سکرات موت میں آسانی ہوتی ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ فردوس آسیہ نہ حدیث کی کتاب ہے اور نہ اس پر اہل سنت والجماعت کے مذہب کا انحصار ہے پس اس کے حوالہ سے کوئی حدیث پیش کرنا درست ہی نہیں ہو سکتا جب کتب احادیث موجود ہیں تو ان کا حوالہ دینا مصنف ہفوات کے لئے کیا مشکل تھا صاف ظاہر ہے کہ مصنف ہفوات کو اس میں اپنے ارادہ کی قلعی کھل جانے کا احتمال تھا اور وہ جانتے تھے کہ اصل حوالہ جات کے ظاہر ہوتے ہی بہت سی روایات کی حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔ چونکہ یہ واقعہ بخاری میں بھی آتا ہے اس لئے میں بخاری کی روایت اس جگہ نقل کر دیتا ہوں۔ اس سے مصنف ہفوات کے اعتراض کی حقیقت خود بخود ظاہر ہو جائے گی امام بخاری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ذکر میں حضرت عائشہ کی روایت لکھتے ہیں۔ كَانَتْ تَقُولُ إِنَّ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُو فِي فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِى وَنَحْرِى وَأَنَّ اللَّهَ جَمَعَ بَيْنَ رِيْقِي وَرِيقِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ - دَخَلَ عَلَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَبِيَدِهِ السّوَاكَ وَأَنَا مُشْتِدَةً رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَنظُرُ إِلَيْهِ وَعَرَفْ وَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ التِوَاكَ فَقُلْتُ أَخُذُهُ لَكَ فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَنْ نَعَمْ فَتَنَا وَلَتَهُ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَقُلْتُ اليَّتَهُ لَكَ فَأَشَارَ بِرَ أَسِهِ أَنْ نَعَمْ فَلَيَّنَتُهُ ترمہ حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر احسان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں اور میری باری میں فوت ہوئے ہیں اور میری گردن اور سینہ کے درمیان (یعنی اس مقام پر آپ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی) اور یہ کہ اللہ تعالی نے میرے اور آپ کے لعاب کو آپ کی وفات کے وقت جمع کر دیا۔ اور یہ اس طرح ہوا کہ عبدالرحمن ( حضرت عائشہ کے بھائی اندر آئے اور ان کے پاس مسواک تھی اور میں نے اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک دی ہوئی تھی میں نے دیکھا کہ آپ مسواک کی طرف دیکھ رہے ہیں اور میں نے سمجھا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں پس میں نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے لئے یہ مسواک لے لوں؟ آپ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے مسواک لے کر آپ کو دی لیکن آپ کو وہ سخت معلوم ہوئی اس پر میں۔ ں پر میں نے کہا کہ کیا میں اسے آر اسے آپ کے لئے نرم کر دوں؟ آپ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ پس میں نے مسواک کو نرم کر دیا اور آپ نے