انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 321

۳۲۱ حق الیقین ان روایات کے نقل کرنے سے مصنف کتاب کا منشاء سوائے حضرت عائشہ کی تحقیر کے اور کیا ہو سکتا ہے۔اور جو شخص بھی بِلا تعصّب کے اس کتاب کو پڑھے گا اسے ماننا پڑے گا کہ یہی ان کا منشاء ہے۔گو اس کتاب کے موضوع سے چنداں اسے تعلق نہیں۔لیکن چونکہ ان اعتراضات کو میں نے اس جگہ درج کر دیا ہے ان کا جواب بھی اس جگہ دے دینا مناسب سمجھتا ہوں۔امراول۔یعنی حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ پر عتاب کا ہونا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔وہ عتاب خراب ہوتا ہے جو شرارت پر کیا جائے۔لیکن جو عتاب غلطی پر کیا جائے وہ تو ایک سبق اور نصیحت ہے۔نبی دنیا میں سکھانے کے لئے آتے ہیں۔لوگوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔تبھی ان کی بعثت کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر اس سے بڑے درجہ کے لوگوں کے لئے علوم روحانیہ کے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی جگہ وہ ٹھوکر کھا جائیں تو ان کو تنبیہہ ہوتی ہے اور یہ تنبیہہ بطور تلطّف ہوتی ہے نہ بہ نظرِ تحقیر و عذاب۔پس اگر حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو جو تنبیہہ ہوئی ہے وہ عتاب میں ہے تو کوئی حرج نہیں خدا تعالی فرماتا ہے کہ ان کا دل خدا ہی کی طرف مائل تھا۔پس یہ تنبیہ ان کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص توجہ کی علامت ہے۔دوسرا اعتراض کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اسم اعظم نہیں سکھایا۔اصل مضمون سے تعلق نہیں رکھتا۔یہ بات کہ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص سے سخت محبت ہے اس امر کا موجب نہیں ہوتا کہ وہ اسے ہر ایک بات بتادے۔مگر اس بات کے بیان کرنے سے چونکہ آپ کی یہ نیت ہے کہ حضرت عائشہ کی عظمت کو لوگوں کی نظروں میں کام کریں اس لئے میں اس کا جواب دے دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن ماجہ میں حضرت عائشہ سے یہ روایت مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اسم اعظم نہیں سکھایا لیکن اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسم اعظم کوئی خاص شئے ہے جو نہایت پیاروں کو سکھائی جاتی ہے ایک حماقت کی بات ہے۔اسم اعظم کوئی خاص شئے نہیں بلکہ اسم اعظم کے متعلق اس قسم کا خیال مسلمانوں میں یہود سے آیا ہے جو یہودا کے نام کا تلفّظ اس قدر مشکل سمجھا کرتے تھے کہ سوائے عالموں سے دوسروں کے لئے اس نام کالینا یا اس کا کھانا جائز نہیں جانتے تھے (دیکھو جیوش انسائکلو پیڈیا وانسائیکلو پیڈیا بیلیکا زیر لفظ نیمز ) اور ان کا یہ خیال تھا کہ اس نام کو صحیح طور سے جو شخص بول سکے اس کی ہر ایک غرض