انوارالعلوم (جلد 9) — Page 254
۲۵۴ نہیں کر سکا۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو کتاب میں لکھ دیئے جائیں گے یا کسی اور موقع پر بیانکر دیئے جائیں گے۔چالیس گُر ابھی ایسے باقی ہیں جن سے معلوم ہو سکتا کہ انسان کس طرح نیک بن سکتا ہے۔اب مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک بات پر اس لیکچر کو ختم کرتاہوں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایسی بات ہے جس میں آپ نے دکھ کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اگر ہم نیک نہ بنیں تو ہماری غرض جو اس جماعت کے بنانے سے ہے وہ پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ اس صورت میں ہماری جماعت خدا کے فضل کی وارث نہیں بن سکتی اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ان اخلاق کو پیدا کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے لئے ضروری قرار دئے ہیں۔مَیں اُمید کرتا ہوں کہ وہ دوست جنہوں نے میرے اس سال کے لیکچروں کے نوٹ لئے ہیں اور جنہوں نے یہ لیکچر سُنے ہیں وہ عملی طور پر ان طریقوں کو استعمال کریں گے تاکہ ہم دنیا کو دکھا سکیں کہ ظاہری اعمال میں بھی ہماری جماعت کے برابر اور کوئی نہیں۔سچ بات تو یہ ہے کہ اگر ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اولیاء اللہ میں سے نہ ہو تو دنیا کو نجات نہیں دلائی جا سکتی اور ہم دنیا میں کوئی تغیر نہیں پیدا کر سکتے۔یاد رکھو ہمارا مقابلہ دنیا کی موجودہ بدیوں سے ہی نہیں بلکہ ہمارا فرض خیالات بد کی رو سے مقابلہ کرنا بھی ہے۔اور ہمیں خیالات کے اس دریا کا مقابلہ کرنا ہے جو ہر طرف لہریں مار رہا ہے۔پس ہماری پوزیشن بہت ہی نازک ہے۔مَیں احباب سے التجاء کرتا ہوں کہ احباب ایسا ہی بننے کی کوشش کریں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں بنانا چاہتے ہیں۔اب مَیں حضرت مسیح موعودؑ کی دُعا پر اس لیکچر کو ختم کرتا ہوں اور خود بھی اس دُعا میں شامل ہوتا ہوں۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:- ’’مَیں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ (یعنی جماعت احمدیہ) کے دلوں پر کارگر ہوں۔خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریر یں الہام کر جو ان کے دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کے زہر کو دور کر دیں۔میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل