انوارالعلوم (جلد 9) — Page 194
انوار العلوم جلد 9 ۱۹۴ منهاج الطالبين نہیں کرتا۔ صحبت کا اثر زیادہ تر ماں باپ یا دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے، کھیلنے والوں کی طرف سے اور اُستادوں کی طرف سے پڑتا ہے۔ قومی رسوم سے جو اثر انسان پر پڑتا ہے وہ بھی اسی قسم میں شامل ہے۔ (۳) گناہ کا ایک موجب غلط علم بھی ہے۔ ایسی باتوں کو انسان علم سمجھ لیتا ہے جو علم نہیں ہوتیں۔ ایسے اُصول پر عمل کرتا ہے جو غلط ہوتے ہیں۔ (۴) گناہ کا ایک موجب عادت بھی ہے۔ باوجود اس کے کہ انسان سچائی سے واقف ہوتا ہے مگر جب موقع آتا ہے اس برائی سے بچ نہیں سکتا۔ مثلا جانتا ہے کہ شراب پینا بڑا ہے اور ارادہ کرتا ہے کہ نہیں پیوں گا۔ لیکن باہر جاتا ہے، بادل آیا ہوتا ہے، ایک ایسی صحبت میں جا کر بیٹھتا ہے جہاں شراب اُڑ رہی ہے وہاں دوسرے کہتے ہیں لو تم بھی پیو تو اس نے نہ پینے کے متعلق جو ارادہ کیا تھا وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ (۵) گناہ کا ایک موجب سُستی اور غفلت ہے۔ ایک بات کا علم ہوتا ہے۔ عادت بھی نہیں ہوتی۔ مگر باوجود اس کے کام کرنے کی امنگ نہیں ہوتی۔ کہتا ہے پھر کر لیں گے۔ اس میں وقت گزر جاتا ہے اور وہ بڑائی میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے وقت ایک ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ایک مخلص صحابی تھے جو جنگ کے لئے جانے کی تیاری کرنے کی بجائے اس خیال سے بیٹھے رہے کہ جب چاہوں گا چل پڑوں گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لشکر کے ساتھ نہ جاسکے۔ ۲۳ غرض کبھی سستی سے بھی انسان گناہ میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان کے اندر یہ مادہ نہیں ہوتا کہ اُسے مجبور کرے کہ اُٹھو یہ کام کرو۔ (1) گناہ کا ایک موجب عدم موازنہ بھی ہے۔ یعنی یہ فیصلہ کرنے کی طاقت نہ رکھنا کہ یہ کام اچھا ہے یا وہ۔ یا یہ کہ فلاں جذبہ کو کس حد تک کس سے اور کس حد تک کس سے استعمال کرنا چاہئے۔ مثلاً محبت ایک اچھا جذبہ ہے لیکن ایک شخص بیوی سے زیادہ محبت کرے اور ماں سے کم حالانکہ ماں کا اس پر احسان ہے۔ وہ اس کے عدم سے وجود میں لانے کا باعث ہوتی ہے اور بیوی سے اس کا تعاون کا رشتہ ہے وہ صرف اس کی خواہشات کو پورا کرتی ہے یا جیسے آجکل بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مرزا صاحب بچے ہیں مگر ہم فلاں پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے چکے ہیں۔ یہ سب باتیں قوت فیصلہ کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ (۷) گناہ کا ایک موجب اس زمانہ کے خیالات کی مخفی رو بھی ہے۔ باقی اُمور کی میں نے