انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 193

۱۹۳ نیکی کیا ہے؟ نیکی وہ اعمال ہیں کہ جن سے انسانی رُوع کو اتنی صحت حاصل ہو جائے کہ وہ رویت الٰہی کے قابل ہو جائے۔تندرست آدمی کا یہی مفہوم ہوتا ہے کہ وہ کام کاج کر سکے ورنہ ڈاکٹر تو ہر ایک میں کوئی نہ کوئی بیماری بتا دیگا۔پس نیکی یہ ہے کہ رویتِ الٰہی کی قابلیت انسان میں پیدا ہو جائے۔اس میں بھی روحانی اور مادی دونوں قسم کے افعال شامل ہیں۔گناہ کی اقسام اصل مضمون کے سمجھنے کے لئے یہ بات سمجھنی بھی ضروری ہے کہ گناہ کی اقسام کتنی ہیں۔سویاد رکھو کہ اس کی تین اقسام ہیں (۱) دل کا گناہ، یہ اصل گناہ ہے (۲) زبان کا گناہ (۳) جوارح یعنی ہاتھ اور پائوں اور دیگر اعضاء کا گناہ۔نیکی کی کتنی اقسام ہیں نیکی کی اقسام بھی تین ہی ہیں (۱) دل کی نیکی۔یہ اصل ہے (۲) زبان کی نیکی (۳) جوارح کی نیکی۔نیکی کی اِسقدر طاقتوں کی موجودگی میں گناہ کہاں سے آتا ہے؟ اُوپر کے بیان کو پڑھ کر یہ خیال ہو سکتا ہے کہ جب بندہ کی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ نے اسقدر طاقتیں رکھی ہیں تو گناہ کہاں سے آتا ہے۔اِسکا جواب یہ ہے کہ گناہ کی ابتداء مندرجہ ذیل امور سے ہوتی ہے: (۱) جہالت یا عدم علم سے۔یعنی بعض دفعہ انسان طبعی تقاضوں کے پورا کرنے میں قوتِ فکر سے کام نہیں لیتا اور عارضی خوشی کو مقدم کر لیتا ہے۔پس عارضی خوشی دائمی راحت سے اس کی نظر کو ہٹا دیتی ہے۔اس کے موجبات یہ ہیں: اوّل جہالت مستقل ہو یا عارضی۔جہالت مستقل تو ظاہر ہی ہے۔عارضی جہالت یعنی باوجود علم کے ایک وقت میں جاہل کی طرح ہو جائے۔اسکے مندرجہ ذیل اسباب ہیں (۱) لالچ اس سے بھی جہالت پیدا ہوتی ہے۔(۲) غصّہ (۳) سخت ضرورت (۴) صحت کی خرابی (۵) سخت خوف (۶) سخت محبت۔اس سے بھی جہالت پیدا ہوتی ہے۔(۷) انتہائی اُمید (۸) سخت مایوسی (۹) ضِد (۱۰) خواہش کی زیادتی (۱۱) یا کمی (۱۲) ورثہ یعنی بعض خیالات ورثہ سے ملتے ہیں اور بسا اوقات دوسرے تمام خیالات پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔یہ بارہ ذریعہ ہیں جن سے جہالت پیدا ہوتی ہے۔(۲) دوسری چیز جس سے گناہ پیدا ہوتا ہے وہ صحبت کا اثر ہے۔انسان کے اندر نقل کی طاقت رکھی گئی ہے۔وہ اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتا ہے اس کی نقل کرتا ہے اور اس کے نتائج پر غور